سپریم کورٹ کے 2 سینئر ترین جج مستعفی

0
304

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے ایک اور جج، جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دونوں ججوں کے استعفے ملک کی عدلیہ اور آئینی ڈھانچے کے حوالے سے ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ صدرِ مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ اپنے استعفے میں انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اس ترمیم سے متعلق چیف جسٹس سپریم کورٹ کو دو الگ خطوط بھی لکھے تھے، جن میں انہوں نے عدلیہ کی آزادی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی تھی۔

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم دراصل آئینِ پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے۔ ان کے مطابق یہ ترمیم سپریم کورٹ آف پاکستان کو “ٹکڑے ٹکڑے” کر دیتی ہے اور عدلیہ کو حکومت کے ماتحت لے آتی ہے۔ انہوں نے اپنے مؤقف میں لکھا ہے کہ یہ ترمیم پاکستان کی آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب کے مترادف ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق، 27ویں ترمیم کے نفاذ سے عدلیہ کی خودمختاری اور فیصلوں کی آزادی بری طرح متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک آزاد عدلیہ کے بغیر آئین اور قانون کی حکمرانی ممکن نہیں رہتی۔ استعفے میں انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی عدلیہ کا حصہ نہیں رہ سکتے جو اپنی آئینی حیثیت کھو چکی ہو۔

جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے کی وجوہات کے بارے میں باضابطہ طور پر تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی اسی ترمیم اور عدالتی خودمختاری کے معاملے پر اختلاف کے باعث استعفیٰ دیا۔

یہ دونوں استعفے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں عدلیہ کی آزادی، اختیارات اور حکومت کے ساتھ تعلقات پر شدید بحث جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کے آئینی و عدالتی نظام کے لیے ایک نازک مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا