سیالکوٹ کے سابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اقبال سنگھیڑا کرپشن کے مقدمات میں گرفتار تھے، جو 13 نومبر کو پولیس کی حراست سے چکری موٹروے ریسٹ ایریا سے فرار ہوگئے۔ لاہور جیل سے راولپنڈی کی خصوصی اینٹی کرپشن عدالت میں پیشی کے لیے لایا جانے والا یہ ہائی پروفائل حوالاتی عدالت میں پیشی کے بعد پولیس کے ساتھ واپس لاہور جیل جا رہا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے فرار کی اطلاع 15 نومبر کو ملی جس کے بعد تھانہ چکری میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ انسپکٹر محمد اصغر، انچارج جوڈیشل گارڈ اڈیالہ نے بیان دیا کہ اے ایس آئی ظفر اقبال اور کانسٹیبلز یاسر، احمد بلال اور ڈرائیور محرم شہزاد پر مشتمل ٹیم نے ملزم کو لاہور سے لا کر عدالت میں پیش کیا تھا۔
اے ایس آئی ظفر اقبال نے بتایا کہ چکری سروس ایریا میں ملزم واش روم گیا جہاں اس کا بھائی پہلے سے موجود تھا، جو سفید ویگو وی 8 نمبر 77 میں چھ دیگر افراد کے ساتھ آیا تھا۔ ملزم کا بھائی اسے گاڑی میں بٹھا کر لے گیا اور فرار کرا دیا۔ پولیس کے مطابق اے ایس آئی اور ملزم کے بھائی کے درمیان پہلے سے رابطہ موجود تھا۔
انسپکٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ اے ایس آئی نے ’’شرمندگی‘‘ کے باعث واقعہ کی بروقت اطلاع نہیں دی اور خود سے ملزم کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ تاہم اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پہنچی اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے مقدمہ درج کر لیا گیا۔
تفتیش کی ذمہ داری اے ایس آئی نعیم راج ولی کے سپرد کر دی گئی ہے۔ فرار ہونے والا اقبال سنگھیڑا کرپشن کے کئی بڑے مقدمات میں مطلوب اور انتہائی ہائی پروفائل حوالاتی تھا۔






