اسلام آباد: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ فوری تعلقات بحال نہ کرنے پر سخت مایوس اور ناراض ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق سعودی ولی عہد نے واشنگٹن کے حالیہ دورے کے دوران صدر ٹرمپ کی اس خواہش پر فوری رضامندی ظاہر نہیں کی کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدوں کے تحت تعلقات معمول پر لے آئے۔
میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی مرکزی موضوع تھا، تاہم محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ اصولی طور پر وہ اس عمل کے خلاف نہیں مگر غزہ جنگ کے بعد سعودی عوام میں اسرائیل مخالف جذبات کے باعث یہ فیصلہ فوری طور پر ممکن نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ولی عہد پر زور دیا کہ تعلقات بحالی کا عمل جلد آغاز کیا جائے، لیکن سعودی مؤقف سن کر امریکی صدر ناراض دکھائی دیے۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ محمد بن سلمان نے یہ نہیں کہا کہ وہ کبھی بھی تعلقات بحال نہیں کریں گے بلکہ انہوں نے دو ریاستی حل کو بنیادی شرط قرار دیا۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام میں کمی اور غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد ٹرمپ چاہتے ہیں کہ تمام عرب ممالک ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوں اور علاقائی امن کو آگے بڑھائیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام پر راضی نہیں ہوگا، چاہے اس کے نتیجے میں سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم نہ ہو سکیں۔
اسرائیلی رپورٹ پر سعودی سفارتخانے نے ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی خواہش دہراتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کو ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے۔






