ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم، سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی فعال کرنے کی ضرورت:پشاور ہائیکورٹ

0
360

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ہدایت کی ہے کہ ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی اور نازیبا مواد فوری طور پر ہٹایا جائے، جبکہ عدالت نے سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شہری ثاقب الرحمان کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹک ٹاک کے لائیو سیشنز میں فحاشی، نازیبا حرکات اور پشتو زبان میں توہین آمیز گفتگو بڑھتی جارہی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کئی ٹک ٹاکرز لائیو سیشنز میں ویورشپ اور مالی فائدے کے لیے جان بوجھ کر فحش اشارے، دوٹوک نازیبا گفتگو، گالیاں اور خواتین کی تضحیک جیسے اقدامات کرتے ہیں، جبکہ یہ لائیو پروگرامز شام سے رات گئے تک جاری رہتے ہیں جن میں اخلاقی حدود بری طرح پامال ہوتی ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نعمان محب کاکا خیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ٹک ٹاک انتظامیہ کو مؤثر اقدامات کی ہدایت کی جائے تاکہ غیر اخلاقی مواد کی روک تھام ہوسکے۔

پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود نے عدالت کو بتایا کہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی مواد کو مسلسل بلاک کیا جارہا ہے، شکایات کے لیے پورٹل بھی قائم ہے، جبکہ ٹک ٹاک نے اسلام آباد میں دفتر قائم کرکے وہاں بھی مانیٹرنگ کا عمل شروع کیا ہے۔

عدالت نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد فوری ہٹانے کا حکم دیا اور کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت متعلقہ اداروں کو بھی فعال ہونا ہوگا۔ بعد ازاں عدالت نے رٹ پٹیشن نمٹا دی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا