پولیس کی حراست میں تشدد اور ماورائے عدالت قتل کسی صورت جائز نہیں:سپریم کورٹ

0
398

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پولیس کی حراست میں موجود ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے خلاف فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد، غیر انسانی و توہین آمیز سلوک اور ذاتی وقار کی پامالی کسی صورت جائز نہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ بعض اوقات پولیس کے تشدد سے ماورائے عدالت قتل کا خطرہ پیدا ہوتا ہے، کیونکہ بعض اہلکار استثنیٰ کے مفروضے کے تحت ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پولیس فورس پر مؤثر اور خصوصی نگرانی ضروری ہے، اور زندگی کا حق سب سے اعلیٰ انسانی حق ہے، جس کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ غیر قانونی حراست، گرفتاری، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ بنیادی حقوق کے اصول ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرے کی ضمانت ہیں، اور پولیس ہر شخص کی جان، آزادی اور وقار کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ قانون کے بغیر کسی شخص کو نقصان پہنچانا شفاف ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی ہے، اور گرفتاری ہمیشہ آئین و قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ آئینی و قانونی تقاضوں کے برخلاف غیر انسانی رویہ، ظلم یا تشدد مجرمانہ فعل اور مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ زریاب خان کو غیر قانونی حراست میں رکھنے اور تشدد کے ذریعے پولیس اہلکاروں نے اپنے فرض کی خلاف ورزی کی، اور یہ عمل اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔ پولیس اہلکاروں کی نوکری سے برخاستگی کی محکمانہ کارروائی عوام کے اعتماد کے لیے ضروری ہے۔

عدالت نے پولیس اہلکاروں کی سزائیں برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کر دی ہیں۔ فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 10 اور آرٹیکل 14 کے مطابق گرفتاری اور حراست کی قانونی ضمانتوں اور انسان کی عزتِ نفس کی حفاظت پر زور دیا گیا۔

یہ فیصلہ ڈیرہ غازی خان کے 3 پولیس کانسٹیبلز کی اپیل پر جاری ہوا، جن پر زریاب خان کو غیر قانونی حراست میں رکھنے اور قتل کرنے کا الزام تھا۔ اپیل پنجاب سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی، جس میں نوکری سے برخاستگی برقرار رکھی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل تھے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا