غیر قانونی افغان باشندوں کو ہر صورت واپس بھیجیں گے؛ اب یہ ہمارے مہمان نہیں رہے، محسن نقوی

0
375

لاہور: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغان شہری پہلے ہمارے مہمان تھے، لیکن اب وہ ہمارے مہمان نہیں رہے۔ افغان باشندوں سے درخواست ہے کہ وہ خود عزت کے ساتھ وطن واپس چلے جائیں، کیونکہ ملک بھر سے غیر قانونی افغان باشندوں کو ہر صورت واپس بھیجا جائے گا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ چند روز قبل ایف سی پر حملہ کرنے والے تینوں افراد افغان شہری نکلے، جبکہ اسلام آباد کچہری میں حملہ کرنے والا شخص بھی افغان تھا۔ ان کے مطابق ملک میں جتنے بھی حملے ہو رہے ہیں، ان میں افغان شہری ملوث پائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے غیر قانونی افغان مہاجرین کے انخلا کا عمل جاری ہے اور حکومت اس میں کامیابی سے پیش رفت کر رہی ہے۔ مزید دھماکوں کی گنجائش نہیں، اسی لیے غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی ہر صورت یقینی بنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی واپس بھیجا گیا شخص دوبارہ آیا تو اسے گرفتار کر کے سزا دی جائے گی، جبکہ خیبر پختونخوا میں افغان کیمپ ختم کیے جا رہے ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے کون ہے، حکومت کو اس کی پوری معلومات ہیں، اور افغان طالبان حکومت کو چاہیے کہ دہشت گردوں کو لگام دے۔

سوشل میڈیا پر فیک نیوز کے خلاف کارروائی کا اعلان

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر 90 فیصد خبریں غلط چلتی ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی بھی شخص جو چاہے سوشل میڈیا پر پھیلا دے۔ غلط خبر کی نشر و اشاعت پر کریک ڈاؤن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل میڈیا اگر غلط خبر نشر کرے تو پیمرا کارروائی کرتا ہے، اسی طرح سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلانے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اظہار رائے کی آزادی ہے لیکن جھوٹی خبریں پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

محسن نقوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کسی کی تذلیل کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ بعض لوگ بیرونِ ملک بیٹھ کر اداروں کے خلاف بے بنیاد باتیں کر رہے ہیں، اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو سامنے لائیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ باہر بیٹھ کر پروپیگنڈا کر رہے ہیں، بہت جلد انہیں واپس لایا جائے گا اور انہیں اپنے بیانات کا جواب دینا ہوگا۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ٹی وی چینلز ایک سسٹم کے تحت چلتے ہیں، غلط خبر نشر کرنے پر انہیں جرمانہ بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف بھی ضرور کارروائی کی جائے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا