راولپنڈی: رکن قومی اسمبلی اور چیئرمین قائمہ کمیٹی کابینہ ڈویژن ملک ابرار احمد نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ریاست نے اب واضح کر دیا ہے کہ قومی سلامتی اور اداروں کی تضحیک کو آزادی رائے کے زمرے میں نہیں بلکہ جرم کے طور پر دیکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج کا مقدمہ سیاست کا نہیں بلکہ ریاست اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ہے۔ ملک ابرار احمد نے پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جماعت جو ’تبدیلی‘ کے نام پر آئی تھی، آج ’تباہی‘ کے دہانے پر کھڑی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت اپنے بانی کے بیانیے سے لاتعلق ہو چکی ہے اور سنجیدہ لوگ بھی ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس یا ٹویٹس شیئر کرنے سے کتراتے ہیں۔ ملک ابرار احمد نے کہا کہ یہ راستہ سیاست کا نہیں بلکہ ’خودکشی‘ کا راستہ ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کارکنان سے مخاطب ہو کر کہا کہ انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ لیڈر جو اپنے بچوں کو لندن اور امریکا میں محفوظ رکھتے ہیں، خود کیوں ڈرائنگ رومز میں چھپ کر انہیں ریاست کے خلاف کروا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس ذہنی کیفیت اور انا پرستی کی نشاندہی کی گئی ہے، اس کا علاج اب مذاکرات نہیں بلکہ قانون کی مکمل عملداری ہے۔ ملک ابرار احمد نے اپیل کی کہ ریاست ماں کی طرح موقع دیتی ہے لیکن اپنی بقا پر سمجھوتہ نہیں کرے گی، لہٰذا انتشار کے باب کو بند کر کے تعمیر و ترقی کے راستے پر پاکستان کا ساتھ دیا جائے۔





