وینزویلا میں سیاسی بحران: صدر مادورو کے مبینہ اغوا کے بعد نائب صدر ڈیلسی روڈریگز قائم مقام صدر مقرر

0
1711

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے مبینہ اغوا کے بعد ملک میں شدید سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ وینزویلا کی سپریم کورٹ نے انتظامی تسلسل برقرار رکھنے کے لیے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عارضی طور پر صدارتی اختیارات سونپنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے حکم نامے کے مطابق ڈیلسی روڈریگز کو بطور قائم مقام صدر تمام صدارتی اختیارات، فرائض اور ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں تاکہ ریاستی امور اور قومی دفاع کو یقینی بنایا جا سکے۔

قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وینزویلا پر ہونے والی مسلح جارحیت کی سخت مذمت کی اور اعلان کیا کہ ملکی دفاع کے لیے خصوصی دفاعی کونسل کو فعال کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مزید اقدامات آئندہ چند گھنٹوں میں سامنے آئیں گے اور ملک میں آئینی و حکومتی نظام مکمل طور پر قائم ہے۔

سپریم کورٹ کے ججوں نے نکولس مادورو کو مستقل طور پر عہدے سے غیر حاضر قرار دینے سے گریز کیا، کیونکہ آئین کے مطابق ایسی صورت میں 30 دن کے اندر نئے انتخابات کروانا لازم ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک متنازع بیان میں کہا کہ جب تک وینزویلا میں اقتدار کی محفوظ منتقلی ممکن نہیں ہو جاتی، امریکہ انتظام سنبھالے گا اور امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں کام کریں گی۔

وینزویلا کی حکومت نے امریکی بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا مبینہ حملہ صرف تیل اور معدنی وسائل پر قبضے کی کوشش ہے، جس کی بالواسطہ تصدیق خود امریکی صدر کے بیان سے ہوتی ہے۔

قوم سے خطاب میں ڈیلسی روڈریگز نے واضح کیا کہ وینزویلا کسی ملک کی کالونی نہیں بنے گا، نکولس مادورو ہی قانونی صدر ہیں اور انہیں اغوا کیا گیا ہے۔
انہوں نے عوام سے اتحاد، صبر اور ملک کے دفاع کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی۔

ادھر وینزویلا کی حکومت نے ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے خصوصی دفاعی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا