وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے مبینہ اغوا کے بعد لاطینی امریکا میں امریکی کارروائیوں کے خدشات بڑھنے لگے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو ایک سخت اور غیر معمولی انتباہ جاری کیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کولمبیا کے صدر کو محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ کولمبیا میں تیار ہونے والی منشیات امریکہ پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ کولمبیا میں منشیات تیار کرنے والی لیبارٹریوں پر ممکنہ حملوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے وینزویلا میں امریکی کارروائی کو لاطینی امریکا کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات پورے خطے میں انسانی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر پیٹرو اس سے قبل بھی کیریبین میں امریکی فوجی تعیناتیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، جنہیں امریکی حکومت منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات قرار دیتی ہے۔
لاطینی امریکا سے متعلق وسیع تر امریکی پالیسی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مغربی نصف کرے میں امریکی برتری پر کوئی سوال نہیں اٹھنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے گرد مستحکم اور اچھے ہمسایہ ممالک چاہتا ہے، جبکہ وینزویلا کے توانائی ذخائر کو بھی امریکا کے لیے اہم قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی مغرب نواز اپوزیشن رہنما اور نوبل انعام یافتہ ماریا کورینا کی مقبولیت اور اندرونی حمایت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے ملک کی قیادت کرنا آسان نہیں ہو گا۔
اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عندیہ دیا کہ کیوبا بھی مستقبل میں ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے، اور کہا کہ اگر وہ ہوانا میں حکومت کا حصہ ہوتے تو کم از کم تشویش ضرور محسوس کرتے۔
خیال رہے کہ امریکا اور کیوبا کے تعلقات کی تاریخ کشیدگی اور مداخلتوں سے بھری رہی ہے، جن میں 1961 کا بے آف پگز حملہ نمایاں مثال ہے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے میکسیکو کے بارے میں بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام ایک اچھی خاتون ہیں، تاہم ان کے بقول ملک پر منشیات کے کارٹلز کا گہرا اثر و رسوخ ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کئی بار میکسیکو کو کارٹلز کے خلاف مدد کی پیشکش کر چکا ہے، لیکن میکسیکو کی قیادت نے انکار کیا۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل ایران میں بھی ممکنہ امریکی مداخلت کا عندیہ دے چکے ہیں۔





