اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں وینزویلا کی صورتحال پر بحث کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وینزویلا پر امریکی فوجی کارروائی اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ امریکا کی وینزویلا یا اس کے عوام کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا وینزویلا پر قبضہ نہیں کر رہا بلکہ وہ وینزویلا کے عوام کے لیے امن، آزادی اور انصاف کا خواہاں ہے۔
امریکی مندوب نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دیا، نکولس مادورو کو مختلف متبادل راستے پیش کیے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، تاہم امریکا اپنی عوام کو منشیات اور دہشت گردی سے بچانے کے لیے اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا، جس میں انہوں نے وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی، جبکہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ اس وقت امریکی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس صورتحال سے وینزویلا میں عدم استحکام بڑھنے اور اس کے خطے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
یو این سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کریں اور جامع، جمہوری مکالمے کا آغاز کریں تاکہ وینزویلا کے عوام معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔






