افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ، دہشتگردی کیخلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

0
401

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔

بھارتی سرپرستی میں دہشت گرد گروہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔یہ جنگ طاقت سے جیتی جائے گی اور ریاست دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف فوج کی جنگ نہیں۔بلکہ قوم کے ایک ایک فرد کی جنگ ہے۔ اگر دہشت گردوں کے خلاف نہ کھڑے ہوئے تو یہ گھروں بازاروں دفاتر اور گلیوں میں پھٹیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دو دہائیوں سے جاری ہے۔ اب ریاست اور عوام میں مکمل واضح مؤقف موجود ہے۔دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں افغانستان خطے میں دہشت گردی کا بیس آف آپریشن بن چکا ہے۔

جہاں سے مختلف گروہ آپریٹ کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر ستائیس خودکش حملے ہوئے۔ جن میں سے سولہ خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے۔

ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے زیادہ واقعات کی وجہ وہاں موجود کرمنل ٹیرر گٹھ جوڑ ہے۔سن دو ہزار اکیس سے دو ہزار پچیس کے دوران دہشت گردی کے اسی فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے۔

انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ سال پچھتر ہزار ایک سو پچھتر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے۔ان آپریشنز میں چودہ ہزار چھ سو اٹھاون خیبرپختونخوا جبکہ اٹھاون ہزار سات سو اٹھتر بلوچستان میں کیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں میں دو ہزار پانچ سو ستانوے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ہزار دو سو پینتیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ داعش ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشتگرد گروہوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔یہ گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل نے انکشاف کیا کہ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریباً اڑھائی ہزار دہشتگرد افغانستان پہنچ چکے ہیں۔ان دہشت گردوں میں ایک بھی پاکستانی نہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ علاقائی اور عالمی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان سے انخلا کے وقت جدید اسلحہ چھوڑ کر گیا۔ جو اب دہشت گردی میں استعمال ہو رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے۔بھارتی سرپرستی میں دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ مالی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔

سیکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ جو علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں افغان طالبان کو نشانہ نہیں بنایا۔صرف تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاکہ پاکستانی عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد مساجد گھروں اور عوامی مقامات کو استعمال کر کے ڈرون حملے کرتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔یہ پاکستان کی سالمیت کی جنگ ہے اور کسی فرد یا گروہ کی حیثیت ملک سے بڑی نہیں ہو سکتی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا