۔18ویں ترمیم ڈھکوسلا ثابت ہوئی، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے: خواجہ آصف

0
447

اسلام آباد — وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلا ثابت ہوئی ہے کیونکہ تمام اختیارات صوبائی حکومتوں کو منتقل ہو گئے، جبکہ کراچی میں پیش آنے والے حالیہ واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے سانحہ گل پلازہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کراچی میں آتشزدگی کا واقعہ انتہائی دلخراش ہے، جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ڈمپرز کے حادثات میں بھی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے وقت اتفاقِ رائے تھا کہ اختیارات لوکل گورنمنٹ کو منتقل کیے جائیں گے، تاہم ایسا نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ گوادر سے گلگت تک ایک جیسا تعلیمی نصاب ہو، مگر یہ خواب بھی پورا نہ ہو سکا۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اختیارات عوام کی دہلیز تک پہنچیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کو بااختیار نہیں بنایا جائے گا، یہ ایوان بے معنی رہے گا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جب بھی ملک میں آمریت آئی، بااختیار لوکل گورنمنٹ متعارف کرائی گئی۔ ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں لوکل باڈی کے انتخابات کرائے گئے، جبکہ جمہوری حکومتیں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات سے گریز کرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور نظام کی بقا کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ چین میں موجودہ صدر ایک سیاسی اور نچلی سطح کے عمل سے ابھر کر سامنے آئے، کیونکہ اصل لیڈرشپ لوکل گورنمنٹ سے جنم لیتی ہے۔ کراچی میں آگ کا واقعہ ہمارے ناکام نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ عوام کو مضبوط بنانے کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ان کی خواہش ہے کہ ایسا نظام ہو جس میں صوبے سے تحصیل اور وارڈ کی سطح تک اختیارات منتقل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو آخر میں وزارت دفاع کی فائر بریگیڈ ہی آگ بجھانے آئے گی۔ پاکستان کے استحکام کے لیے اب سخت اور بروقت فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے یکساں نظامِ تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک قوم بنانے کے لیے مشترکہ تعلیمی نظام ضروری ہے، مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔

پی ٹی آئی سے مذاکرات پر تحفظات

پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے، تاہم انہیں پی ٹی آئی کی نیت پر شدید تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک وقت میں چار پانچ زبانیں بولتی ہے، کبھی اسمبلی میں کچھ، کبھی خیبرپختونخوا میں کچھ اور باہر بیٹھے لوگ الگ بیانیہ دیتے ہیں، ایسے میں یہ فیصلہ مشکل ہے کہ کس بات پر اعتبار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے باہر بیٹھ کر گالم گلوچ کرنے والوں کی زبان بندی ہونی چاہیے۔ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بات کرنا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت ہو رہا ہے۔

خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں بیک ٹریک کرنے اور دو نمبری کے لیے اپنی اسپیس رکھنا چاہتی ہے۔ اگر نیت صاف ہو تو مذاکرات بھی ہو سکتے ہیں اور نتائج بھی نکل سکتے ہیں، مگر بدقسمتی سے تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی۔

اپوزیشن لیڈر پر مؤقف

وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ ایک اکثریتی جماعت نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں نامزد نہیں کیا۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بننے پر خوش آمدید کہا اور کہا کہ ان سے سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے مگر ذاتی تعلق برادرانہ ہے۔

آخر میں خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف انہیں اختلاف کی مکمل آزادی دیتے ہیں، جو پاکستان کی سیاست میں ایک مثال ہے۔ ان کے مطابق شہباز شریف اپنے وزرا اور کارکنوں کو جتنی اسپیس دیتے ہیں، وہ کم ہی کسی وزیراعظم میں دیکھی گئی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا