صدر مملکت آصف علی زرداری کی 7 قوانین کی منظوری، گھریلو تشدد کے خلاف سخت قانون نافذ

0
1303

صدر مملکت آصف علی زرداری نے گھریلو تشدد سمیت سات اہم قوانین کی منظوری دے دی، جس کے بعد بیوی پر تشدد، اسے گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا قابلِ سزا جرم بن گیا ہے۔

صدر مملکت نے ڈومیسٹک وائلینس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ترمیمی بل 2026 اور دانش اسکول اتھارٹی ترمیمی بل کی منظوری دی۔

اس کے علاوہ صدر مملکت نے انکم ٹیکس ترمیمی بل، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ ترمیمی بل اور ٹرانسفر آف ریلوے ترمیمی بل پر بھی دستخط کر دیے۔

مزید برآں صدر مملکت نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور نیشنل ٹیرف کمیشن سے متعلق قوانین کی بھی توثیق کر دی، جس کے بعد تمام ساتوں قوانین باضابطہ طور پر ایکٹ آف پارلیمنٹ بن گئے۔

واضح رہے کہ ان میں سے تین قوانین پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس جبکہ چار قوانین قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہوئے تھے۔

گھریلو تشدد بل کیا ہے؟

23 جنوری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈومیسٹک وائلینس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 منظور کیا گیا، جس کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر ہوگا۔

اس قانون کے تحت بیوی، بچے، گھر کے بزرگ افراد، لے پالک بچے، ٹرانس جینڈر افراد اور ایک ہی گھر میں رہنے والے تمام افراد کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

قانون کے مطابق بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے کسی بھی فرد کو گالی دینا، جذباتی یا نفسیاتی طور پر ہراساں کرنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا