پاکستان، قازقستان اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے 5 سالہ روڈ میپ پر متفق

0
318

پاکستان قازقستان اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے دونوں ممالک نے 5 سالہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں مشترکہ بزنس فورم سے خطاب میں کہا کہ اس اقدام سے تجارتی حجم اور اقتصادی تعاون میں اضافہ ہوگا۔

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں، خصوصاً قازقستان، کو تجارت کے لیے اپنی بندرگاہوں کے ذریعے قریب ترین راستہ فراہم کر سکتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ قازقستان اپنی مصنوعات گوادر اور کراچی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک برآمد کر سکتا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں پاکستان اور قازقستان کے مشترکہ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قازقستان کے ساتھ ریل اور روڈ رابطوں کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر رابطوں سے تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور خطے میں اقتصادی تعاون فروغ پائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 250 ملین ڈالر ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حجم دونوں ممالک کی اصل صلاحیت سے کہیں کم ہے۔
ان کے مطابق باہمی تجارت میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

شہباز شریف نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کی جانب سے دورے کی دعوت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے پانچ سالہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان 37 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق یہ معاہدے دو طرفہ تعاون میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 23 سال بعد کسی بھی قازق صدر کا پاکستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔
وزیراعظم کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہے۔

اس موقع پر صدرِ قازقستان قاسم جومارت توکایووف نے بھی خطاب کیا۔
انہوں نے بزنس فورم کے انعقاد پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔

صدر قازقستان نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کے تعلقات کا اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور قازقستان علاقائی اور عالمی رابطوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون پورے خطے کے لیے خوش آئند ثابت ہوگا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا