امریکا کا ایران کے ایٹمی مواد پر قبضے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے پر غور: امریکی میڈیا

0
1085

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے ایٹمی مواد کو قبضے میں لینے یا محفوظ بنانے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران میں موجود انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے حوالے سے ممکنہ آپریشن پر بات چیت ہوئی ہے۔

اس سے قبل امریکی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں مخصوص اہداف کے خلاف فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگی مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایران کے پاس موجود تقریباً 450 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم کو اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اسے چند ہفتوں میں ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس مواد کو قبضے میں لینے کے لیے ممکنہ کارروائی میں امریکی یا اسرائیلی فوجیوں کو ایرانی سرزمین پر داخل ہو کر مضبوط زیر زمین تنصیبات تک پہنچنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ مشن امریکا کرے گا، اسرائیل انجام دے گا یا دونوں ممالک کی مشترکہ کارروائی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق ایسا آپریشن اس وقت کیا جا سکتا ہے جب امریکا اور اسرائیل کو یقین ہو جائے کہ ایرانی فوج مؤثر مزاحمت نہیں کر سکے گی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے جب کانگریس کی بریفنگ میں ایران کے افزودہ یورینیئم کو محفوظ بنانے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کے لیے وہاں جا کر اسے حاصل کرنا پڑے گا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کارروائی کون کرے گا۔

ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم ایران میں مخصوص مشنز کے لیے اسپیشل آپریشنز یونٹس بھیجنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اس حوالے سے دو امکانات زیر غور ہیں: ایک یہ کہ یورینیئم کو ایران سے باہر منتقل کر دیا جائے، جبکہ دوسرا یہ کہ جوہری ماہرین کو وہاں بھیج کر اسی مقام پر اس کی افزودگی کم کر دی جائے۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ مشن میں اسپیشل فورسز کے ساتھ سائنس دان بھی شامل ہو سکتے ہیں، جن میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ماہرین بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اس کے علاوہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے کے امکان پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا