وزیر اعلیٰ پنجاب کا عزم: مضبوط عورت ، مضبوط پنجاب

0
1526

تحریر: افتخار علی شاہ

معاون و تربیت۔ محمد عمران حیدر

کسی بھی ملک، معاشرے یا خاندان کی ترقی کا دارومدار مرد اور خواتین میں یکساں طور پر ہوتا ہے۔ ترقی کا پہیہ دونوں کے فعال اور متحرک کردار کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ عام طور پر صنفی امتیاز کی وجہ سے خواتین کو اپنا عملی کردار ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خواتین کو قیادت، سماجی انصاف، وکالت، اور ڈیجیٹل مہارتوں کے ذریعے بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ صرف انسانی حقوق کا معاملہ نہیں، بلکہ کسی بھی قوم کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ ڈیجیٹل دور میں، خواتین کو ٹیکنالوجی، فری لانسنگ، ای کامرس، اور آن لائن کاروبار کی مہارت سکھانا انہیں معاشی طور پر خودمختار بناتا ہے۔

ڈیجیٹل خواندگی سے خواتین گھر بیٹھے روزگار کما سکتی ہیں اور عالمی معیشت میں حصہ لے سکتی ہیں۔ جب خواتین بااختیار ہوں گی تو اس کا فائدہ صرف ان کی ذات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ان کے خاندان، معاشرے اور پوری معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔

وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف خواتین کے حقوق کی محافظ ہیں۔ وہ خواتین کی آواز ہیں۔ بحثیت خاتون، انہیں خواتین کے مسائل کا ادراک ہے۔ خواتین کو محفوظ اور بااختیار بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب نے عملی اقدامات کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں، خواتین کو قیادت، سماجی انصاف، وکالت، اور ڈیجیٹل مہارتوں کے ذریعے بااختیار بنانا حکومت پنجاب کی ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے ان اقدامات کا مقصد خواتین کو نہ صرف معاشی طور پر مستحکم کرنا ہے بلکہ انہیں معاشرے میں برابری کا مقام اور تحفظ فراہم کرنا بھی ہے تاکہ وہ ملکی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔

ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے اور انکو تحفظ فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں. ان میں ویمن بزنس انکیوبیشن سینٹر (WBIC) اور SEHR پروگرام خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے 2026 کے اوائل میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف سے شروع کیے گئے اہم اقدامات ہیں۔WBIC (خواتین بزنس انکیوبیشن سینٹر) پروگرام خواتین کو اپنے کاروبار شروع کرنے یا اسکیل کرنے کے لیے ایک معاون ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام سے خواتین کو اپنے کاروبار کو حقیقی معنوں میں بدلنے کے لیے رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ SEHR ( سکل انحاسمنٹ تھرو ہوم ریچ پروگرام) کے تحت صوبہ بھر میں 5000 سے زائد خواتین کو تین شعبوں بشمول مہمان نوازی، بیوٹیشن سروسز، اور ڈیجیٹل اسکولز میں تربیت فراہم کی گئی ہے۔ ان پروگرامز سے خواتین کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے میں مدد ملے گی۔

پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی میں ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے میگا شوکیس کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ایم این اے طاہرہ اورنگزیب نے بحثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب سعدیہ تیمور، پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و ثقافت پنجاب شازیہ رضوان اور سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب ثمن رائے نے خصوصی شرکت کی۔

قریب میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی 6 سو زائد طالبات کو کورسز کی تکمیل پر سرٹیفیکیشن دئیے گئے۔ ان طالبات میں ایمبیسیڈر پروگرامز WBIC اور SEHR شامل ہیں جنہوں نے ڈیجیٹل اسکلز، مہمان نوازی اور بیوٹیشن سروسز میں پیشہ ورانہ مہارت حاصل کی۔ تقریب پنجاب آرٹس کونسل راولپنڈی کے اشتراک سے منعقد کی گئ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ایک چھت تلے ہنر مند خواتین پہلی بار دیکھی ہیں، یہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا ویژن ہے کہ مضبوط عورت، مضبوط پنجاب۔ وزیر اعلیٰ پنجاب خواتین کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتی ہیں۔ فیلڈ مارشل جنرل حافظ سیدعاصم منیر نے ملکی وقار کو بلند کیا ہے۔ پہلی بار اپنی زندگی میں خاتون وزیر اعلیٰ اور خاتون سینئر منسٹر دیکھی ہی۔

طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب خواتین کی ترقی اورفلاح کے لیے عملی اقدامات یقینی بنا رہی ہیں۔ خواتین اس دن ہی بااختیار ہو گئیں تھیں جب صوبہ میں پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب ہوئیں۔ ہنر مند خواتین ہی با اختیار خواتین بنیں گی۔ پارلیمانی سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب سعدیہ تیمور نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا قیام 2012 میں عمل میں لایا گیاجس کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کی فلاح کے لیے کئی منصوبے شروع کیے۔ ایک ارب روپے سے 6 سو کئیر سنٹر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا جن میں سے 365 بن گئے۔

صوبہ کی 40 جامعات میں سے 80 طالبات ایمبسڈر بنائئ گئئ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر مضبوط خواتین ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتی ہیں۔ سی ایم یوتھ پچ پروگرام کے تحت 19 مئی کو 10 منتخب خواتین کو10 لاکھ روپے کے چیک دئیے جائیں گے جسے سے وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کی روشنی میں دیہی ہنر مند خواتین کو روزگار فراہم کرنے کے لیے 25 سو خواتین اس ماہ کے آخر تک ٹیکسٹائل انڈسٹریز سے وابستہ ہو جائیں گی۔ پنجاب کے چیمبرز میں بھی خواتین کو نمائندگی دی جا رہی ہے۔

خواتین کے لیے پنجاب بزنس ایکسچینج پروگرام لا رہے ہیں۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے خواتین کو با اختیار بنانے اور تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر ڈاکومنٹری فلم دکھائی گئی۔ سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب ثمن رائے نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے عزم “مضبوط عورت ، مضبوط پنجاب” کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کی روشنی میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے مختلف پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ ویمن بزنس انکیوبیشن سینٹر (WBIC) اور سکل انحاسمنٹ تھرو ہوم ریچ پروگرام (SEHR) میں طالبات کو جدید اور محفوظ کاروبار اور اسکلز کے حوالے سے تربیت دی گئی ہے۔ خواتین مختلف مہارتیں سیکھ کر صوبے کی اہم برآمدی صنعت میں مؤثر کردار ادا کریں گی۔پاکستان کی خواتین باصلاحیت ہیں اور انہوں نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جدید دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایمبیسیڈر پروگرامز ویمن بزنس انکیوبیشن سینٹر (WBIC) اور سکل انحاسمنٹ تھرو ہوم ریچ پروگرام (SEHR) شروع کیے ہیں۔ ان پروگرامز سے ان خواتین کی حوصلہ افزائی ہو گی جو معاشی طور پر خود کفیل ہونا چاہتی ہیں۔ خواتین کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع پیدا کرنے والے والے پروگرامز کو عوامی سطح پر بہت زیادہ پذیرائی ملی ہے۔ ان پروگرامز میں تربیت مکمل کرنے کے بعد خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنے میں مدد ملے گی اور انہیں یکساں ترقی کے مواقع میسر آئیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا