آئی ایم ایف کی حکومت کو جی ایس ٹی بڑھاکر19 فیصد کرنیکی تجویز، سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان

0
505

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی تجویز دے دی، تاہم پاکستانی حکام نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مہنگائی میں اضافے کا سبب قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے 15 ہزار ارب روپے سے زائد کے ٹیکس ریونیو ہدف کے حصول اور محصولات کی ممکنہ کمی کو پورا کرنے کیلئے جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے کی سفارش کی ہے۔ تخمینوں کے مطابق اس اضافے سے 250 سے 300 ارب روپے تک اضافی محصولات حاصل ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقدامات کے تحت سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی ٹیکس میں اضافے کی تجاویز زیر غور ہیں، جس سے ان مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ 8 فیصد سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے جبکہ الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح سولر پینلز پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کا امکان بھی زیر غور ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے ان تجاویز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف آپشنز پر غور جاری ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے رواں مالی سال میں محصولات کے ہدف کے حصول میں مشکلات اور ٹیکس شارٹ فال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تجاویز پیش کی ہیں، جبکہ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ جی ایس ٹی میں اضافہ عوام پر مزید مہنگائی کا بوجھ ڈالے گا۔

آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال میں اوسط مہنگائی کی شرح 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ بھی لگایا ہے، جبکہ ٹیکس نیٹ میں توسیع اور محصولات بڑھانے کیلئے دیگر اقدامات پر بھی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا