کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے سینئر رہنما فاروق ستار نے الزام عائد کیا ہے کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو بعض غیر قانونی معاملات میں رکاوٹ بننے کی وجہ سے عہدے سے ہٹایا گیا۔
کراچی میں ایم کیو ایم رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل کامران ٹیسوری کو دوبارہ گورنر سندھ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کامران ٹیسوری کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا، جبکہ رانا ثناء اللہ خود کہہ چکے ہیں کہ انہیں کامران ٹیسوری سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
فاروق ستار نے کہا کہ اندرون سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کی سیاست کا خاتمہ قریب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 140-A پر عملدرآمد ایم کیو ایم کا تین دہائیوں پرانا مطالبہ ہے اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے آئینی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے باوجود بعض زمینوں پر قبضوں کو قانونی جواز فراہم کیا گیا، جبکہ ہل پارک کی 62 ایکڑ اراضی پر بھی قبضے کی کوششیں کی گئیں، جنہیں اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ کراچی کی زمینوں کی لیزنگ کا اختیار کے ایم سی کے پاس ہونا چاہیے اور شہر کو قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 سے 1970 تک کراچی وفاقی انتظام میں رہا اور شہر کو وفاق کے حوالے کرنے کی بحث کوئی نئی بات نہیں۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم قبضہ مافیا کو کھلا چیلنج کرتی ہے اور شہر میں جہاں بھی غیر قانونی قبضوں کی نشاندہی ہوگی، اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برسوں سے کراچی کو منظم انداز میں قبضہ مافیا کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں جرائم اور غیر قانونی تعمیرات میں اضافہ تشویشناک ہے، جبکہ شہر کی پہاڑیوں کو کاٹ کر پلاٹ فروخت کیے جا رہے ہیں۔ فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ میئر کراچی اور متعلقہ ادارے قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔






