عقد ثانی۔۔۔حلالہ۔۔۔حافظ اور محافظ

0
10

فاروق فیصل خان

بچپن میں ننھیال جایا کرتے تو بتایا جاتا تھا کہ مولانا مفتی محمود اور مولانا مودودی امریکہ کے ایجنٹ ہیں اور پاکستان کے مخالف اس لئے فیلڈ مارشل ایوب خان نے مولانا مودودی کی جماعت پر پابندی عائد کی تھی۔ددھیال میں معاملہ بر عکس تھا ادھر بتایا جاتا کہ ذوالفقار علی بھٹو روس کے اور شیخ مجیب الرحمان بھارت کے ایجنٹ ہیں۔دونوں نے ملی بھگت سے پاکستان کو دو لخت کیا۔ اخبارات اور مطالعہ پاکستان پرھنے کے قابل ہوئے تو “انکشافات” ہوئے مرحوم خان عبدالغفار خان،صمد خان اچکزئی،سائیں جی ایم سید تو پکے پاکستان مخالف تھے۔۔۔کچھ عرصہ بعد مری اور مینگل قبائل بارے بھی ایسا ہی ذہن بنایا گیا۔

وقت آگے کو بڑھا ملک پر اسلام کا غلبہ ہوا تو پاکستان “مخالف”بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ “اسلام دشمن” ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے تو تاریخ کے اوراق سے بتایا گیا کہ مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان تو پرانے احراری ہیں۔ انہیں، جے یو آئی اور پی پی پی کو پاکستان سے کیا دلچسپی۔۔۔وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھتا گیا۔”پاکستان دشمن”بھٹو کی بیٹی حادثات زمانہ کہہ لیں یا فضائی حادثہ کے بعد برسراقتدار آئیں تو چند ماہ بعد ہی قوم کو بتا دیا گیا کہ یہ تو اپنے مرحوم باپ کا ایجنڈا پورا کرنے آئی ہیں۔سو سیکورٹی رسک قرار پا کر گھر بھیج دی گئیں۔نواز شریف منظر پر ابھرے یا ابھارا گیا لیکن معصوم ایک مرتبہ پھر دھوکہ کھا گئے۔

انجانے یا جلد بازی میں مناسب چھان پھٹک نہ کر سکے اور ہندو بنیا اپنے بندے کو فٹ کرانے میں کامیاب ہوئے۔۔۔۔”مومنین” اتنے سادہ تھے کہ دونوں کی جماعتوں کو تین تین مواقع فراہم کئے کہ شاید بھارت کی محبت سے تائب ہو کر پاکستان کی محبت میں گرفتار ہو جائیں لیکن بے سود۔۔پورے جذبہ ایمانی اور حب الوطنی کے تحت دونوں کو الگ الگ تین طلاقیں دے کر رخصت کیا۔۔۔لیکن پھر کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ کیفیت تو پہلے مرد سے ناآسودگی کی بنا پر طلاق لینے والی خاتون سی ہے

جس نے عقد ثانی کے چند دنوں بعد کہا کہ پہلے والا ہی ٹھیک تھا۔۔۔۔سو پہلے والے دونوں سے بیک وقت عقد ثانی کر لیا گیا۔۔۔۔لیکن اب کی مرتبہ احتیاط یہ کی گئ ہے کہ محسن نقوی کی صورت شہہ بالا کا بھی انتظام کر لیا گیا ہے۔۔۔۔اور کسی مولوی یا مولانا کی بھی ضرورت نہیں کہ ہم خود حافظ بھی ہیں اور محافظ بھی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا