کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج: آئین اور پارلیمان کی بالادستی

0
1076

آسمان بُھٹہ

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ محض وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختیار کی کشمکش نہیں؛ یہ پاکستان کے وفاقی نظام، منتخب نمائندگی اور آئینی احتساب کا امتحان بھی ہے۔ دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف مؤثر کارروائی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر غیر معمولی آئینی اختیارات اسی وقت جائز اور قابلِ قبول رہتے ہیں جب ان کا استعمال آئین کی حدود، واضح شواہد اور پارلیمانی نگرانی کے تابع ہو۔ سوال یہ نہیں کہ ریاست کو امن قائم کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ اس اختیار کو کس آئینی راستے سے، کن شرائط پر، اور کتنی مدت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔11 اکتوبر 2026 کو وفاقی حکومت نے اعلان کیا کہ صدر نے وزیراعظم کے مشورے پر خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کیا ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال بگڑی، دہشت گردی کے واقعات بڑھے اور صوبائی حکومت نے انسدادِ دہشت گردی میں مطلوبہ تعاون نہیں کیا۔

وفاقی وزرا نے صوبائی حکومت پر سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ دوسری طرف تحریکِ انصاف نے فیصلے کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے قانونی چیلنج کی تیاری کا اعلان کیا اور کہا کہ صوبائی خودمختاری کو کمزور کرنے سے امن قائم نہیں ہوگا۔ یہ الزامات اور جوابی مؤقف سیاسی دعوے ہیں؛ ان کی جانچ شواہد اور آئینی طریقۂ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی کا اعلان کر سکتے ہیں جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو اور پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔ لیکن آئین نے اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے ایک خاص شرط رکھی ہے: متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہے۔

اسی آرٹیکل کے تحت ایمرجنسی کا اعلان پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش ہونا اور دو ماہ کے اندر منظور ہونا بھی ضروری ہے۔ ایمرجنسی کے دوران وفاقی اختیارات بڑھ سکتے ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آئین معطل ہوگیا یا وفاق ہر اقدام سے بالاتر ہوگیا۔ قومی اسمبلی کا سرکاری آئینی متن، آرٹیکل 232یہاں بنیادی آئینی سوال یہ ہے کہ کے پی میں ایمرجنسی کس مخصوص بنیاد پر لگائی گئی اور آرٹیکل 232 کی شرطیں کس طرح پوری کی گئیں۔ حکومتی بیانات میں دہشت گردی اور داخلی امن و امان کا ذکر ہے۔ اگر قانونی بنیاد اندرونی بدامنی ہے تو صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی شرط کو واضح کرنا لازم ہے۔ اگر حکومت کسی دوسری آئینی بنیاد پر انحصار کرتی ہے تو اسے بھی اعلان اور متعلقہ ریکارڈ میں صاف طور پر بیان کرنا چاہیے۔ محض یہ کہنا کہ صوبائی حکومت نے تعاون نہیں کیا، خود بخود آئینی شرط کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اس نکتے کا حتمی فیصلہ متعلقہ دستاویزات اور عدالتی تشریح پر منحصر ہے، لیکن اسے پارلیمان کے سامنے کھل کر زیرِبحث آنا چاہیے۔آرٹیکل 234 ایک الگ صورت سے متعلق ہے: جب صدر کو گورنر کی رپورٹ پر اطمینان ہو کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی، تو صدر گورنر کو صوبائی حکومت کے بعض یا تمام انتظامی اختیارات دے سکتے ہیں۔ اس آرٹیکل کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات بھی پارلیمان کے ذریعے استعمال ہونے کا اعلان کیا جا سکتا ہے، لیکن ہائی کورٹ کے اختیارات وفاق یا گورنر کو منتقل نہیں کیے جا سکتے۔ آرٹیکل 234 کا اعلان مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش ہوتا ہے؛ منظوری نہ ملے تو دو ماہ بعد ختم ہو جاتا ہے، اور منظوری کے بعد بھی اسے ایک وقت میں دو ماہ سے زیادہ بڑھایا نہیں جا سکتا۔ مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ قومی اسمبلی کا سرکاری آئینی متن، آرٹیکل 234 گورنر راج نافذ کرنے کا اختیار آئین میں موجود ہے، مگر اس کا وجود ہی اس کے ہر استعمال کو درست ثابت نہیں کرتا۔ آئینی جواز کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کیا واقعی صوبائی حکومت کا آئینی نظام کے تحت کام کرنا ناممکن ہوگیا تھا؟ کیا گورنر کی رپورٹ نے اس ناکامی کی تفصیل اور ثبوت فراہم کیے؟ کیا فیصلہ کم سے کم ضروری مداخلت تک محدود ہے؟

اور کیا اسے پارلیمانی منظوری کی مقررہ مدت میں پیش کیا گیا؟ یہ سوالات حکومت مخالف سیاست نہیں بلکہ آئینی احتساب کا حصہ ہیں۔ انہیں اٹھانا ریاستی اختیار سے انکار نہیں؛ یہ اختیار کو قانون کے تابع رکھنے کا طریقہ ہے۔پارلیمان کی بالادستی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پارلیمان آئین سے بالاتر ہے۔ پاکستان میں آئین بنیادی قانون ہے؛ پارلیمان، وفاقی حکومت، صوبائی اسمبلی، صدر اور گورنر سب اسی کے تحت کام کرتے ہیں۔ پارلیمان کا کردار یہاں منظوری، نگرانی اور بحث کا ہے۔ مشترکہ اجلاس کو صرف حکومت کی اکثریت گنوانے کا فورم نہیں بننا چاہیے۔ اسے بتایا جائے کہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد موجود ہے یا نہیں، گورنر کی رپورٹ میں کیا حقائق درج ہیں، ایمرجنسی کی مدت اور دائرۂ کار کیا ہے، اور معمول کے آئینی انتظام کی بحالی کا معیار کیا ہوگا۔ اگر فیصلہ آئینی ہے تو شفاف بحث اسے مضبوط کرے گی؛ اگر اس میں نقص ہے تو پارلیمان اسے درست کرنے کا راستہ دے سکتی ہے۔صوبائی خودمختاری بھی وفاقی وحدت کے مقابل کوئی رکاوٹ نہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات وفاقی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں۔ خیبر پختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کا بوجھ اٹھا رہا ہے؛ اس کے عوام کے تحفظ کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔

مگر منتخب صوبائی حکومت کو ہٹا کر یا اس کے اختیارات محدود کرکے اگر مقامی نمائندگی اور عوامی اعتماد کمزور ہو تو امن کی کوشش کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پائیدار انسدادِ دہشت گردی کے لیے پولیس، مقامی انتظامیہ، قبائلی عمائدین، منتخب نمائندوں اور وفاقی اداروں کو مشترکہ حکمتِ عملی میں شامل کرنا ہوگا۔ سیاسی اختلاف کو سلامتی کی ناکامی کا واحد ثبوت سمجھنا بھی درست نہیں، اور سلامتی کے خدشات کو محض سیاسی ڈراما کہہ کر رد کرنا بھی ذمہ دارانہ رویہ نہیں۔ایمرجنسی کے دوران بنیادی حقوق کا معاملہ بھی توجہ چاہتا ہے۔ آرٹیکل 233 بعض حقوق کے نفاذ پر محدود اقدامات کی گنجائش دیتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر حق خود بخود ختم ہوجاتا ہے۔ شہریوں کی جان، منصفانہ قانونی عمل، عدالتوں تک رسائی اور اظہارِ رائے کے تحفظ پر کوئی بھی پابندی واضح قانونی بنیاد، ضرورت اور تناسب کے اصول پر پرکھی جانی چاہیے۔ آئین ہائی کورٹ کے اختیارات ختم کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اور آرٹیکل 234 بھی گورنر راج کے نام پر عدلیہ کو انتظامیہ کے تابع نہیں کرتا۔ قومی اسمبلی کا سرکاری آئینی متن، آرٹیکلز 232 تا 234موجودہ صورتِ حال میں حکومت کا فرض ہے کہ پارلیمان اور عوام کے سامنے مکمل آئینی و انتظامی ریکارڈ رکھے؛ اپوزیشن کا فرض ہے کہ اعتراضات کو قانونی اور پارلیمانی فورم پر دلیل کے ساتھ اٹھائے؛ اور پارلیمان کا فرض ہے کہ پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر فیصلہ کرے۔

گورنر راج کو غیر معینہ مدت تک چلانے یا معمول کا انتظامی طریقہ بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ مقررہ مدت سے پہلے حالات کا جائزہ، صوبائی اداروں کی بحالی کا واضح نقشہ اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی کی قابلِ پیمائش پیش رفت ضروری ہے۔کے پی کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اسلام آباد اور پشاور میں کس جماعت کی حکومت ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا آئینی استثنا واقعی آخری چارہ ہے، کیا اس کی شرطیں پوری کی گئی ہیں، اور کیا ریاست اسے محدود مدت میں ختم کرکے معمول کی جمہوری حکمرانی بحال کرے گی۔ امن اور آئین ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مضبوط ریاست درکار ہے، اور ریاست کی مضبوطی اسی وقت پائیدار ہوتی ہے جب اس کے اختیارات آئین، پارلیمان اور قانون کے سامنے جواب دہ ہوں۔ یہی اصول وفاق کو متحد اور عوامی اعتماد کو قائم رکھ سکتا ہے۔
(مصنف کینیڈا کی یونیورسٹی اوٹاوا میں قانون کے طالب علم ہیں)

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا