یورپ سے تعلقات بحال کرنے کیلئے تیار ہیں، امن سے رہیں ورنہ جواب دیں گے: پیوٹن

0
248

ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس کے یورپ یا یورپی ممالک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں اور ماسکو اپنے یورپی ہمسایوں کے ساتھ تعلقات اور تعاون بحال کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم روس کو درپیش کسی بھی خطرے کا جواب دینے پر مجبور کیا گیا تو وہ کارروائی کرے گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماسکو میں فوجی و صنعتی کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے بعض یورپی ممالک پر روس کے ساتھ ممکنہ جنگ کی تیاری کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممالک یوکرین کے تنازع اور روس کی مبینہ دھمکی کو اپنی پالیسیوں کا جواز بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

روسی صدر نے کہا کہ وہ ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ روس کے یورپ یا یورپی ممالک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں اور اس حوالے سے کسی خدشے کی سرے سے کوئی بنیاد موجود نہیں۔ ان کے مطابق روس اپنے یورپی ہمسایوں کے ساتھ تعاون اور تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے۔

پیوٹن نے کہا کہ روس مسلسل بین الاقوامی قانون کے دفاع اور اس کے اصولوں کی پاسداری کی بات کرتا ہے، لیکن دوسری جانب بعض یورپی ممالک شہری بحری جہازوں پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر روس اس کا جواب دے گا۔

روسی صدر نے کہا کہ بہتر ہے کہ تمام فریق امن کے ساتھ رہیں، بصورت دیگر روس کو بھی اپنے دفاع کے لیے جواب دینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

اپنے خطاب میں پیوٹن نے روس کے نئے ریاستی دفاعی پروگرام کی ترجیحات بھی بیان کیں اور کہا کہ دفاعی صلاحیت روس کی خودمختاری کی ضمانت اور عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ روس کی اسٹریٹجک میزائل فورسز کا 92 فیصد حصہ جدید ہتھیاروں سے لیس ہوچکا ہے، جسے روس کی دفاعی صلاحیت میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا