اب صرف ن لیگ اورپیلزپارٹی الیکشن لڑ رہی ہیں۔بلاول بھٹو

0
259

کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تین بار ناکام شخص کو چوتھی بار کیوں تسلیم کریں، ہم نہیں مانتے۔ 3 بار کے ناکام وزیراعظم کو چوتھی بار مسلط کرنے نہیں دیں گے، کیا آپ اس کو دوبارہ وزیر خزانہ دیکھنا چاہتے ہو، ہمیں ایسی جماعت چاہیے جو تین نسلوں سے غریب عوام کی خدمت کرتی آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ حکومت میں آکر امیروں کو ریلیف دیتے ہیں، پیپلزپارٹی غریب عوام کو ریلیف دیتی ہے، یہ شخص چوتھی بار وزیراعظم بنا تو بلوچستان عوام لاوارث ہوں گے، پیپلزپارٹی کی حکومتی بنی تو عوام کی حکومت ہوگی۔بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں پیپلزپارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پہلی بار اس شخص کو مسلط کیا گیا تو اس نے بلوچستان کے عوام کے حق پر ڈاکا مارا، جب دوسری بار اس شخص کو مسلط کیا تو پھر بلوچستان کے عوام کے حق پر ڈاکا مارا، جب تیسری بار اس شخص کو مسلط کیا گیا تو پوچھیں کیا اس نے وفا کی؟3 بار ناکام شخص کو چوتھی بار کس خوشی میں قبول کریں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اسلام آباد کو پیغام پہنچانا چاہتا ہوں، چاروں صوبوں کے عوام اسلام آباد میں بیٹھے حکمران کے کردار سے خوش نہیں، پاکستان کے عوام کسی کے غلام نہیں، میں مانتا ہوں طاقت کا سرچشمہ عوام ہے، وہ عوام میں آنے سے ڈرتے ہیں، میں پاکستانی عوام پر اعتماد کرتا ہو، لاہور میں ان کے گھر میں گھس کر ماروں گا، ہم جنرل الیکشن میں مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی والے گھبراتے نہیں، ہم پہلے بھی میدان میں تھے، اب بھی ہیں، یہ کیسا شیر ہے جو اپنے گھر میں چھپا ہوا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ الیکشن لڑ رہا ہے تاکہ جیل سے بچ سکے، ہم عوام کی خدمت کرنے کے لیے الیکشن لڑ رہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ پاکستان کا مستقبل اسکے ہاتھ دوگے جو تین بار وزیراعظم ہو کر عوام کا کوی کام نہیں کیا، آپ نے فیصلہ کرنا ہے کیا پرانی سیاست چاہیے یا نئی سوچ چاہیے، اب دو جماعت الیکشن لڑ رہی ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کارکن آخری مہینہ ضاع نہ کریں آئیں، تیر کا ساتھ دیں، جیت عوام کی ہوگی تیر کی ہوگی، بلوچستان کے عوام کو درخواست ہے آئیں شہدا کی جماعت کا ساتھ آپ کی قسمت بدل دیں گے۔انہوں نے کہا کہ نصیرآباد سے گوادر تک نمائندگی کرنا چاہتا ہوں، ووٹ ضائع نہ کریں، ایک بار تیر کا ساتھ دیں، جیسے تھرپارکر میں انقلاب لائے، ویسے بلوچستان کے دور دراز پہاڑی علاقوں تک انقلاب لائیں گے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا