پشین اور قلعہ سیف اللہ میں دو بم دھماکوں میں 29 افراد ہلاک متعدد زخمی

0
340

کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے پشین اور قلعہ میں دو بم دھماکوں میں کم از کم 29 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ بدھ کے روز پشین میں ہونے والے دھماکے میں پشین کے حلقہ پی بی 47 میں ضلع پشین کی تحصیل خانوزئی میں آزاد امیدوار اسفندیار خان کاکڑ کی انتخابی مہم کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ قلعہ سیف اللہ میں بم دھماکہ جے یو آئی-ف کے انتخابی دفتر کے باہر ہوا۔
پشین دھماکے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق اور قلعہ سیف اللہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 12 افراد دم توڑ گئے۔ دھماکے کی جگہ کے قریب واقع خانزئی اسپتال نے ہلاکتوں کی تعداد 17 بتائی اور کہا کہ دو درجن سے زائد زخمی ہیں۔ پشین ضلع کے ڈپٹی کمشنر جمعہ داد خان نے بتایا کہ دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سے جے یو آئی (ف) کے امیدوار مولانا عبدالواسع دھماکے کے وقت پارٹی کے انتخابی دفتر کے اندر موجود تھے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب سیاسی جماعتوں نے الیکشن سے ایک دن قبل انتخابی قوانین کے تحت لازمی خاموشی کے دوران اپنی انتخابی مہم مکمل کی۔

بلوچستان کے نگراں وزیر داخلہ و قبائلی امور میر زبیر خان جمالی نے دھماکے کا نوٹس لیا۔ دھماکے سے ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر نے ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ طلب کر لی۔ حملے کو ‘ملک دشمنوں’ کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے جمالی نے کہا کہ انتخابی عمل جاری رہے گا۔ سیکورٹی فورسز نے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا اور ایمرجنسی سروسز نے دونوں حملہ کی جگہوں پر امدادی کارروائی شروع کی۔ زخمیوں کو قریبی طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان علی مردان خان ڈومکی نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے وزیر داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
انہوں نے جانوں کے ضیاع پر بھی گہرے افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو حملوں کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی۔ ڈومکی نے کہا کہ یہ حملے ‘پرامن انتخابات کے عمل کو نقصان پہنچانے کی سازش’ تھے اور کہا کہ ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ لوگوں سے خوفزدہ نہ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے صوبے کے شہریوں سے کہا کہ وہ 8 فروری کو اپنا جمہوری حق استعمال کریں۔

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ کل کے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔ زخمیوں کو تمام طبی امداد فراہم کی جائے گی۔ حکومت انتخابی عمل کو پرامن طریقے سے انجام دینے کے لیے پرعزم ہے۔ عبوری وزیر داخلہ گوہر اعجاز نے بلوچستان میں دوہرے حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ وہ ان خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ حملے میں اپنے پیاروں کو کھو دیا. اشتعال انگیز عناصر عام انتخابات سے قبل افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں اور عوام کو اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے سے روکنا چاہتے ہیں لیکن حکومت ‘ان کے مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی پشین اور قلعہ سیف اللہ میں دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا ایک وحشیانہ فعل ہے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم شہباز شریف نے دو بم دھماکوں میں جانی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے چند گھنٹے قبل یہ بزدلانہ دہشت گرد حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مرحومین اور متاثرہ خاندانوں کے لیے دعا بھی کی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا