انتخابات کے بعد پاک بھارت تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف

0
191

اسلام آباد :پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ تعلقات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے امید ظاہر کی ہے کہ 19 اپریل سے شروع ہونے والے سات مرحلوں میں ہونے والے انتخابات کے بعد اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی۔اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات انتخابات کے بعد بہتر ہوسکتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کا مرکز افغانستان ہے

وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ افغانستان کا دورہ کیا اور وہاں کی طالبان حکومت سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرنے کی درخواست کی۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ کابل کی جانب سے تجویز کردہ حل عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے افغان عبوری حکومت کے رویے میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہمسایہ ملک کے لیے ہمارے آپشنز روز بروز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ افغانستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے، ان کے لیے قربانیاں دی ہیں اور ان کے ساتھ جنگیں بھی لڑی ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک افغان سرحد کو دنیا بھر کی دیگر سرحدوں کی طرح سمجھا جائے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت ویزا ہولڈرز کی سرحد پار نقل و حرکت کو محدود کرتا ہے۔

افغانستان سے بغیر ویزے کے لوگوں کی نقل و حرکت دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے۔انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے آنے والے دنوں میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا بھی عندیہ دیا۔خیبر پختونخوا میں چینی شہریوں پر حملے کی جاری تحقیقات کی وضاحت کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور چین کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کو کچھ شواہد ملے ہیں اور وہ جلد ہی دہشت گرد حملے کے حوالے سے تمام حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اہداف کامیابی سے پورا کر رہا ہے تاہم حکومت کم از کم ڈیڑھ سال بعد قوم کو ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت 2700 ٹیکس ریکوری کے مقدمات زیر التوا ہیں جبکہ بجلی اور گیس چوری کی وجہ سے قومی خزانے سے اربوں روپے نکالے جا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چھ ماہ کے اندر موثر اقدامات کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر پابندیوں سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ امریکا کو ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل حل پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو اسلام آباد کی کمزور معاشی صورتحال پر غور کرنا ہوگا کیونکہ ملک اپنے ہمسایہ ملک سے کم قیمتوں پر گیس خریدنے کا حق محفوظ رکھتا ہے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا