معاہدے تک ایرانی اثاثے منجمند، پابندیاں ختم نہیں ہوں گی، ٹرمپ

0
39

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حتمی اور جامع معاہدے سے قبل نہ اقتصادی پابندیاں نرم کی جائیں گی اور نہ ہی ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے۔

ایک امریکی نشریاتی پروگرام کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطے اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں فریق کسی ممکنہ سمجھوتے کے قریب ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا ایران سے مزید عملی اقدامات اور واضح ضمانتیں چاہتا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنے یا محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی قومی سلامتی اور اتحادیوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو واشنگٹن ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے مزید سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رہے گی اور یہ تعیناتی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت مذاکراتی عمل میں شریک ہے اور مستقبل میں براہِ راست رابطوں کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب ایرانی حکام منجمد اثاثوں کی واپسی کے مطالبے پر قائم ہیں۔ ماہرین کے مطابق پابندیوں، جوہری پروگرام اور مالی معاملات پر اختلافات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو اب بھی کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا