حکومت کی جماعت اسلامی کو مذاکرات کی پیش کش

0
222

وفاقی وزرا عطا اللہ تارڑ اور امیر مقام نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اپنی عملداری قائم کرنا ہو گی، حکومت جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔

جمعہ کو مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انجینیئر امیر مقام نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کا امریکا سے ڈالر لینے کا الزام خود اپنی سابقہ حکومت پر ہونا چاہیے، وہ خود بتائیں خیبر پختونخوا اور وفاق میں ان کی پارٹی کی حکومت تھی، انہوں نے امریکا سے کتنے ڈالر لیے اور کہاں خرچ کیے۔؟

ان کی حکومت میں کئی آپریشنز ہوئے، ڈالر بھی لیے گئے اور ان کا پتا بھی نہیں کہ وہ کہاں گئے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن عزم استحکام کے بارے میں جیسی باتیں کی جا رہی ہیں، ایسا کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے امن کا قیام یقینی بنائیں گے، خفیہ اطلاعات پر سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کر رہی ہیں۔

بنوں واقعے اور آپریشن عزم استحکام کو متنازع بنانا درست نہیں ہے، امن و امان کا معاملہ خیبر پختونخوا کا اپنا پیدا کردہ ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بڑی بڑی باتیں کرنے کی بجائے صوبے کے مسائل پر توجہ دیں۔

امیر مقام نے کہا کہ وزیر اعظم اور ڈی جی آئی ایس پی آر کہہ چکے ہیں کہ ملک میں ایسا کوئی آپریشن نہیں ہو رہا جس سے خدانخواستہ ملک کو نقصان ہو رہا ہو، یہ آپریشن ملک کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مسائل ہیں او ایک پارٹی سیاست کر رہی ہے، قیام امن امن کے لیے حکومت رٹ قائم کرنا ہو گی، پاک فوج کی قربانیوں پر اس کے ساتھ ہمدردی اور یکجتہی کرنی چاہیے نہ کہ اس کے خلاف باتیں کی جانی چاہییں۔

وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو اڈیالہ میں بھی جا کر جواب دینا ہوتا ہے اس لیے ہم ان کی مجبوری کو سمجھتے ہیں لیکن وہ میٹنگز میں آکر ہمیں بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کراتے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ امیر مقام پر 8 مرتبہ دہشتگردوں نے حملہ کیا لیکن انہیں اللہ نے بچایا، دہشتگردی پی ٹی آئی کے دور میں بڑھی کیونکہ یہی لوگ طالبان کو واپس لے آئے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ٹمبر مافیا متحرک ہے وزیر اعلیٰ بتائیں ان کے خلاف انہوں نے کوئی اقدامات کیے ہیں۔

اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں مصنوعی ذہانت کا ایک بہت بڑا سیکنڈل سامنے آیا ہے، ایک جعلی ادارے کے ساتھ طلبا کی تربیت معاہدہ کیا گیا، اس ادارے میں جتنے لوگ موجود ہیں ان کے پاس کوئی ڈگری ہے نہ کوئی ان کے پاس تربیت کے لیے کوئی سیٹ اَپ موجود ہے، الٹا جعلی سرٹیفکیٹ کے تحت طالبا کا نقصان ہو گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا