امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ غزہ جنگ اگلے دو یا تین ہفتوں میں “حتمی اختتام” تک پہنچ جائے گی تنازع کو ختم کرنے کے لئے سنجیدہ “سفارتی کوشش” جاری ہے۔اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں آپ کے پاس بہت اچھا اور حتمی اختتام ہو گا۔ایک رپورٹر نے صدر سے پوچھا کہ کیا امریکہ اس مقصد کے لیے سفارتکاری کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ ایک بہت سنجیدہ سفارتی دباؤ ہے۔ مگر جنگ کے خاتمے کی ایک شرط یہ ہے کہ حماس اب غزہ کی قیادت نہیں کرے گی ہم نے ہمیشہ ایک حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے. ہم چاہتے ہیں کہ یہ ختم ہو جائے
علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مئی میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران سات جنگی طیارے مار گرائے گئے تھے۔ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جوہری تصادم کو روکنے کا کریڈٹ لیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ جنگ اگلی سطح تھی جو جوہری جنگ ہونے والی تھی۔ انہوں نے پہلے ہی سات جیٹ طیاروں کو مار گرایا ہے۔ “میں نے کہا،
آپ کے پاس اسے حل کرنے کے لئے 24 گھنٹے ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘ٹھیک ہے، اب کوئی جنگ نہیں چل رہی ہے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ محصولات اور تجارتی دباؤ کا ان کا استعمال فیصلہ کن تھا۔ اگر آپ لڑتے ہیں اور سب کو مارنا چاہتے ہیں، تو یہ ٹھیک ہے، لیکن جب آپ ہمارے ساتھ تجارت کریں گے تو میں آپ سے 100 فیصد ٹیرف وصول کرنے جا رہا ہوں’. ان سب نے ہار مان لی






