لبنان کی حکومت کی جانب سے ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کرنے کے فیصلے کے بعد لبنانی حکام اور امریکی سفیروں کے درمیان مذاکرات سے قبل حزب اللہ کے سربراہ نے پیر کے روز گروپ کے ہتھیار چھوڑنے سے انکار کر دیا۔نعیم قاسم نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ ہم ان ہتھیاروں کو ترک نہیں کریں گے جو ہمیں حملوں سے بچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہتھیار ہماری روح، ہماری عزت، ہماری زمین، ہمارے وقار، ہمارے بچوں کا مستقبل ہیں، جو بھی ان ہتھیاروں کو چھیننا چاہتا ہے وہ ہماری جانیں چھیننا چاہتا ہے۔
امریکہ کے شدید دباؤ اور اسرائیل کی جانب سے اپنی فوجی کارروائی میں توسیع کے خدشے کے پیش نظر لبنانکی حکومت نے رواں ماہ فوج کو اس سال کے آخر تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی قاسم نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے اور کہا کہ ‘یہ فیصلہ امریکہ اور اسرائیل کے حکم کے تحت کیا گیا تھا’ اور واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ ‘لبنان کو تباہ کرنا’ چاہتا ہے۔امریکی سفیر تھامس بیرک اور مورگن اورٹیگس منگل کو لبنانی حکام سے ملاقات کریں گے۔لبنان امریکی تجویز پر اسرائیل کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے جس میں حزب اللہ کو ختم کرنے کے ٹائم ٹیبل اور میکانزم کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ حالیہ تنازع کے دوران اس کے زیر قبضہ علاقوں سے اسرائیل کے انخلاء کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔






