اسلام آباد۔:مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ مظفرآباد واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے،کشمیر تاریخی،جغرافیائی اور فطری طور پر پاکستان کا حصہ تھا اور رہے گا،عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات کی میز پر آئے،اس کی ہٹ دھرمی سے وفاق کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے۔پیر کو یہاں جاری ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ مظفرآباد اور بٹل میں انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں،ابتدائی اطلاعات کے مطابق مظفرآباد میں مسلم کانفرنس کے پرامن جلوس کا راستہ روکا گیا،ان پر پتھراؤ کیاگیا،پاکستان کے جھنڈے والی گاڑیوں کو توڑا گیا،اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے،دونوں فریقین کی مشاورت سے جوڈیشل کمیشن بنایاجائے،انتظامیہ جاں بحق ہونے والوں کا پوسٹ مارٹم کرائے تاکہ یہ معلوم ہو کہ ان کی موت کیسے ہوئی،بٹل کے واقعہ کی بھی تحقیق ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے ساری زندگی پرامن سیاست کی ہے،ہماری سیاست میں تہذیب،شائستگی اور روایات کا غلبہ رہا ہے،مجاہد اول نے ہمیشہ پرتشدد سیاست سے منع کیا۔انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی معاملات کو مذاکرات کی طرف لے کر جائے،مسائل کا حل مذاکرات سے ہی نکلنا ہے،پہلے بھی معاملات حل کی طرف جارہے تھے اور وفاقی مذاکراتی کمیٹی سے کئی نکات پر اتفاق ہوگیا تھا لیکن ایکشن کمیٹی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے حالات بگڑے،ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ایسے حالات نہ پیدا ہوں کہ دشمن ہندوستان اوراس کا میڈیا اس سے فائدہ اٹھائے اور پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر،گلگت بلتستان اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے اپنی عزت اور آبرو کی قربانی دے کر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے،آزادکشمیر کو غیر مستحکم کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر فطری،جغرافیائی اور تاریخی طور پر پاکستان کا حصہ تھا اور رہے گا اور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ ہی اس کا مستقل حل ہے۔






