اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ پیر سے شروع ہوگا، وائٹ ہاؤس

0
176

واشنگٹن: امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں حماس کے زیرِ حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی آئندہ 72 گھنٹوں میں شروع ہو سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق، یرغمالیوں کی رہائی کا عمل پیر سے ممکنہ طور پر شروع ہوجائے گا۔ حماس کے قبضے میں اس وقت 48 اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں جن میں سے 20 کے زندہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جب کہ باقی کی لاشیں اسرائیلی حکام کے حوالے کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق، اسرائیل بدلے میں تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، جن میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے حماس کے اعلیٰ رہنما بھی شامل ہیں۔

حماس نے جن اہم قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، ان میں عبداللہ برغوثی، مروان برغوثی، حسن سلامہ، احمد سعدات، ابراہیم حامد اور عباس السید شامل ہیں۔ تاہم اسرائیل نے مروان برغوثی کی رہائی سے انکار کردیا ہے اور یحییٰ سنوار اور محمد سنوار کی لاشوں کی واپسی کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ پیشرفت مصر کی میزبانی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے تحت ہونے والے مذاکرات کا حصہ ہے۔ ابتدائی معاہدے کے تحت غزہ میں چند روز کی جنگ بندی کی جائے گی، جس دوران امدادی سامان کے داخلے اور قیدیوں کے تبادلے کی اجازت دی جائے گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا