ایک مذہبی جماعت کی ممکنہ احتجاجی ریلی کے پیشِ نظر راولپنڈی اور اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں سمیت لاہور تا اسلام آباد موٹروے اور جی ٹی روڈ کے کئی حصے جزوی یا مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ لاہور میں اورنج لائن ٹرین سروس بھی معطل ہے جبکہ متعدد شاہراؤں پر کنٹینرز رکھے جانے سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
لاہور میں کشیدہ صورتحال کے باعث تعلیمی اداروں میں طلبہ کو 11 بجے رخصت کر دیا گیا۔ ٹھوکر نیاز بیگ، بند روڈ اور بابو صابو سمیت کئی مقامات سے موٹروے انٹری مکمل بند ہے۔ اسلام آباد میں بھی موٹروے کے تمام راستے سیل کر دیے گئے ہیں۔
جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ، جہلم، گجرات، مریدکے، کھاریاں، سرائے عالمگیر اور چناب پل سمیت مختلف جگہوں پر ٹریفک بند ہے۔ لالہ موسیٰ اور چکوال موڑ پر بھی کنٹینرز کھڑے ہونے سے مسافر پھنس گئے ہیں۔
انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی معطل کر دی گئی ہے جبکہ پنجاب بھر میں دس روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ چار سے زائد افراد کے اکٹھ پر پابندی عائد ہے تاہم عبادات، عدالتوں، دفاتر، شادی اور جنازوں پر استثنا ہوگا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالتوں میں پیش نہ ہونے والے وکلا کے خلاف ایڈورس آرڈر نہ دینے کی اپیل کی ہے، کیونکہ تمام داخلی راستے بند ہونے سے رسائی مشکل ہو چکی ہے۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے متعدد داخلی راستوں پر ڈائیورشن پلان جاری کرتے ہوئے شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ میٹرو اور الیکٹرک بس سروس بھی حفاظتی بنیادوں پر بند کر دی گئی ہے۔
ایکسپریس وے، فیض آباد، زیرو پوائنٹ، سری نگر ہائی وے اور پارک روڈ سمیت کئی مرکزی راستوں پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فضائی نگرانی بھی جاری ہے۔






