غزہ میں فلسطینی طبی حکام نے 30 افراد کی لاشیں وصول کیں جنہیں اسرائیل نے حراست میں لیا تھا اور جمعرات کو ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے ذریعے حوالے کیا گیا تھا۔خبر رساں ادارے وفا کے مطابق گزشتہ ہفتے اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اب تک 120 فلسطینیوں کی لاشیں اسرائیل کی جانب سے حوالے کی جا چکی ہیں۔حماس نے راتوں رات یرغمالیوں کی مزید دو لاشیں اسرائیل کو واپس کردیں ،
جس سے رہا ہونے والے 28 میں سے 9 افراد کی تعداد بڑھ گئی۔ جنگ بندی کی شرائط کے مطابق حماس کے ہاتھوں ہر یرغمال کے بدلے اسرائیل 15 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کرے گا۔فلسطینی فرانزک ٹیموں کا کہنا ہے کہ کچھ لاشوں میں بدسلوکی کے نشانات ظاہر ہوئے ہیں جن میں مار پیٹ، ہتھکڑیاں لگانا اور آنکھوں پر پٹی باندھ دینا شامل ہے۔ اہل خانہ نے چار متاثرین کی شناخت کی تصدیق کی ہے ، جبکہ دیگر حوالگی سے پہلے امتحانات اور دستاویزات کی تکمیل کا انتظار کر رہے ہیں۔
جمعرات کے روز طبی ذرائع نے وفا کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں 29 لاشیں جن میں سے 22 ملبے سے برآمد ہوئی ہیں اور 10 زخمیوں کو غزہ کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔غزہ میں جمعے کو جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مجموعی طور پر 67 ہزار 967 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وفا کی رپورٹ کے مطابق یہ تعداد نامکمل ہے کیونکہ بہت سے متاثرین ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں اور ایمبولینس اور ریسکیو عملے کے لیے ناقابل رسائی ہیں۔






