سی ٹی ڈی پختونخوا سے متعلق بڑا اعتراف

0
315

پشاور: آئی جی خیبرپختونخوا نے پشاور ہائی کورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا پنجاب کی طرح مکمل فعال اور پروفیشنل نہیں ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں خامیوں کے کیس کی سماعت کی، جس میں چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ڈی جی پراسیکیوشن، سیکرٹری فائنانس اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جدید دور میں کیسے ممکن ہے کہ پولیس جرائم سے باخبر نہ ہو، اور محکمے میں احتساب کا کیا نظام ہے۔ آئی جی پولیس نے کہا کہ پولیس میں مضبوط احتسابی نظام موجود ہے اور ہزاروں اہلکاروں کو سزائیں دی جا چکی ہیں۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بتایا کہ پشاور میں 458 تفتیشی افسران تعینات ہیں جبکہ مزید 500 کی ضرورت ہے، اور ایف ایس ایل میں بہتری کے لیے ایک ارب روپے دینے کو تیار ہیں۔ چیف جسٹس نے پولیس اور پراسیکیوشن کو سپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

ڈی جی پراسیکیوشن نے کہا کہ پراسیکیوشن اکیڈمی غیر فعال ہے اور اسے فعال کرنے کے لیے سکیورٹی اور بجلی کی فراہمی درکار ہے۔ چیف جسٹس نے پراسیکیوشن سے پوسٹنگ و ٹرانسفر پالیسی طلب کرلی۔ سیکریٹری فنانس نے بتایا کہ اس سال 15 ارب روپے کی پروکیورمنٹ ہوگی اور کے پی پولیس کی تنخواہیں پنجاب کے برابر کر دی گئی ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ پنجاب میں 2016 میں سی ٹی ڈی کیسز میں سزا کی شرح 4 فیصد تھی جو 2019 میں 84 فیصد تک پہنچ گئی، اور وہاں کے افسران سی ٹی ڈی میں ہی رہتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں بھی یہی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سی ٹی ڈی کے سروس رولز عدالت میں جمع کرائے جائیں تاکہ مؤثر تفتیشی نظام کے لیے رہنما اصول طے کیے جا سکیں۔

عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو تین دن میں پولیس کی سپورٹ اور دیگر اقدامات پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا