ایمان مزاری کیخلاف توہین عدالت درخواست پر فیصلہ جاری

0
403

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وکیل ایمان مزاری کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست نا قابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے گیارہ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ درخواست گزار شہری حافظ احتشام کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایمان مزاری نے ضلعی عدالت کے ججز کے خلاف بیانات دیے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ ججز نے عوامی دباؤ کے باعث توہین مذہب کیسز میں سزائیں سنائیں۔

فیصلے کے مطابق ایمان مزاری کے الفاظ سن سنی بات یا رائے کے زمرے میں آتے ہیں اور یہ آئینی حق آزادی اظہار رائے کے تحت محفوظ ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایمان مزاری نے کسی جج کا نام نہیں لیا اور نہ ہی کسی کو ٹارگٹ کیا، بلکہ صرف عام خیالات کا اظہار کیا۔

عدالت نے کہا کہ توہین عدالت کا مقدمہ صرف اسی صورت میں بنتا ہے جب عدلیہ کو بدنام کرنے کا واضح ارادہ ہو، جبکہ موجودہ کیس میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا، اس لیے درخواست خارج کی جاتی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا