صیہونی افواج نے تاریخی ابراہیمی مسجد کو مسلمانوں کیلئے بند کر دیا

0
101

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز نے ہبرون (الخلیل) کے قدیمی شہر میں کرفیو لگا دیا اور تاریخی ابراہیمی مسجد مسلمانوں کے لیے بند کر دی تاکہ غیر قانونی یہودی آبادکار تعطیلات منا سکیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق کرفیو کے باعث فلسطینی شہری اپنے گھروں تک نہیں پہنچ سکے اور بعض کو رشتہ داروں کے یہاں رات گزارنی پڑی۔ یہ اقدام اسرائیل کی مسجد پر مکمل کنٹرول اور اسے ایک عبادت گاہ میں تبدیل کرنے کی کوششوں کے دوران اٹھایا گیا۔

یہودیوں کے سیرا ڈے کے جشن کے موقع پر اسرائیل نے ابراہیمی مسجد کے 63 فیصد حصے کو یہودی عبادت کے لیے مختص کیا، جبکہ مسلمانوں کے لیے صرف 37 فیصد حصہ برقرار رکھا گیا۔ اسرائیل مسجد کو سالانہ 10 اسلامی تعطیلات کے دوران مکمل طور پر بند کر دیتا ہے۔

ابراہیمی مسجد ہبرون کے قدیمی شہر میں واقع ہے، جہاں تقریباً 400 غیر قانونی آبادکار مقیم ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے 1500 اسرائیلی فوجی تعینات ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی آباد کاروں نے الحاجہ حمیدہ مسجد پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی، اسے نذر آتش کیا اور دیواروں پر فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ جملے لکھے۔

اسلامی اوقاف اور مذہبی امور کی وزارت نے کہا کہ اسرائیلی قبضہ گیر روزانہ اسلامی مقدس مقامات اور شہری املاک پر حملے کرتے ہیں اور ان کی شدت اور نوعیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا