اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات فوری کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونین کونسل سیکرٹری کو الیکشن کرانے کی ذمہ داری دینا آئین و قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کی مقامی حکومتوں کی مدت 14 فروری 2021 کو پوری ہو گئی تھی، اور آئین کے آرٹیکل 140-A اور 219 کے تحت وفاقی حکومت 120 دن کے اندر انتخابات کرانے کی پابند تھی۔
اعلامیے کے مطابق متعدد وجوہات کی بنیاد پر انتخابات بار بار ملتوی ہوتے رہے۔ الیکشن کمیشن پانچ مرتبہ حلقہ بندیاں کر چکا ہے اور تین بار انتخابی شیڈول بھی جاری کیا، جبکہ متعلقہ اداروں سے مسلسل خط و کتابت کے باوجود الیکشن کا انعقاد ممکن نہ ہو سکا۔
کمیشن نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت 13 نومبر 2025 کو کی، جس کے بعد 17 نومبر 2025 کو فیصلہ سناتے ہوئے فوری طور پر انتخابی شیڈول پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔
اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے سیکشن 15(2) میں کی گئی حالیہ ترمیم، جس کے تحت یونین کونسل سیکرٹری کو الیکشن کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، آئین و قانون کے خلاف ہے۔ الیکشن کمیشن کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ وہ لوکل گورنمنٹ انتخابات یونین کونسل سیکرٹری کے ذریعے کرائے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ الیکشنز ایکٹ 2017 اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر اوز کی تعیناتی کا اختیار صرف کمیشن کو حاصل ہے، اور کمیشن اپنے افسران، عدلیہ یا انتظامیہ کے اہلکاروں کو انتخابی فرائض پر تعینات کر سکتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یونین کونسل سیکرٹری ’’سرکاری افسر‘‘ کی تعریف پر پورا نہیں اترتا، اس لیے اسے پریذائیڈنگ افسر یا کسی بھی انتخابی عملے کا رکن مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ انتخابات انہی افسران کے ذریعے کرائے جائیں گے جن کی تعیناتی الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن کے ذریعے کرے گا۔






