ریاض: سعودی عرب میں شراب کے استعمال پر سخت پابندیاں ہونے کے باوجود، سعودی حکام نے مزید دو شراب خانوں کے کھولنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، پہلا شراب خانہ مشرقی صوبے دھران میں پٹرولیم کمپنی آرامکو کے غیر مسلم ملازمین کے لیے قائم کیا جائے گا، جبکہ دوسرا شراب خانہ جدہ میں غیر مسلم سفارتکاروں کے لیے بنایا جائے گا۔ یہ دونوں شراب خانے 2026 تک کھلنے کی توقع ہے، اگرچہ حتمی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ خبر سعودی ولی عہد کے امریکا کے دورے کے بعد سامنے آئی ہے، اور سعودی حکام نے اس پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ 2024 میں سعودی عرب نے اپنا پہلا شراب خانہ دارالحکومت ریاض کے سفارتی علاقے میں غیر مسلم سفارتکاروں کے لیے کھولا تھا، جسے “بوٴز بنکر” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ شراب خانے سعودی عرب میں الکوحل کے استعمال پر سخت ضابطوں میں نرمی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، حالانکہ سعودی عرب میں شراب اب بھی مکمل طور پر ممنوع ہے۔ ملک میں حالیہ برسوں میں تفریحی ایونٹس، سینما، اور خواتین کے لیے ڈرائیونگ کی اجازت جیسے سماجی تبدیلیاں آئی ہیں۔
سعودی عرب کی سیاحت اور عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اگلے سال تک 17 نئے لگژری ہوٹلز کھولے جانے ہیں، لیکن ان ہوٹلز میں شراب کی فروخت کی اجازت نہیں ہوگی۔






