آسٹریلوی انتہا پسند سینیٹر کا پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر احتجاج

0
609

آسٹریلیا کی دائیں بازو کی انتہاپسند سینیٹر پالین ہینسن نے پارلیمنٹ میں برقع پہن کر ہنگامہ برپا کر دیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سینیٹر ہینسن نے پیر کو عوامی مقامات پر برقع پر پابندی کے لیے پیش کیا جانے والا اپنا بل مسترد کیے جانے کے بعد پارلیمنٹ کے اجلاس میں احتجاجاً برقع پہن کر شرکت کی۔

مسلم سینیٹرز نے سینیٹر ہینسن کے اس اقدام کو اسلام دشمنی اور کونسل پرستی قرار دیا۔ سینیٹر محرین فاروقی نے اس اقدام کو واضح نسل پرستی قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی، جب کہ فاطمہ پیمان نے اسے شرمناک اور غیر جمہوری حرکت قرار دیا۔

حکومتی اور اپوزیشن دونوں رہنماؤں نے بھی سینیٹر ہینسن کے عمل کی مذمت کی، اور اسے نفرت پھیلانے کا ایک اور نیا طریقہ قرار دیا۔ سینیٹر ہینسن نے 2017 میں بھی اسی نوعیت کا مظاہرہ کیا تھا، اور اس وقت بھی ملک بھر میں برقع پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آسٹریلیا میں مذہبی آزادی اور تنوع کے حوالے سے مسائل ابھی تک موجود ہیں اور مختلف طبقوں کے درمیان تناؤ کی ایک اور علامت ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا