پاکستان اور افغانستان کے اختلافات تشویشناک ہیں، ضرورت پڑی تو کردار ادا کریں گے: علی لاریجانی

0
351

اسلام آباد: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی تشویش کا باعث ہے، اختلافات کے حل کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کریں گے اور پاکستان جب بھی چاہے، ایران تعاون کے لیے تیار ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی لاریجانی نے بتایا کہ ان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات میں پاک ایران اسٹریٹجک شراکت داری پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان اور ایران اپنے باہمی تقاضوں اور حالات کے مطابق ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک طے کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ باہمی تعاون کا اہم حصہ ہے اور اگر کہا گیا تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

علی لاریجانی نے ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کر چکا ہے، اگر رکاوٹیں نہ ہوتیں تو آج پاکستان میں گھروں تک ایرانی گیس پہنچ رہی ہوتی۔ امید ہے کہ گیس پائپ لائن منصوبے کا جلد حل نکل آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا سے اچھے تعلقات کے باوجود ایران کی حمایت کی، جسے تہران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ غزہ کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کسی بین الاقوامی فورس میں شامل ہونا پاکستان کا اپنا فیصلہ ہے اور اس طرح کے حل اکثر دیرپا ثابت نہیں ہوتے بلکہ مزید مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

علی لاریجانی نے زور دیا کہ دہشت گرد گروہ دونوں ممالک کے لیے مشترکہ چیلنج ہیں، اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کو مغربی ممالک نے تشکیل دیا، اور متعدد دہشت گرد گروہوں کو مختلف انٹیلی جینس ایجنسیوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا