پندرہ سالہ فلسطینی نژاد امریکی محمد ابراہیم کو فروری میں یہودی آبادکاروں پر پتھر پھینکنے کے الزام میں اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا تھا۔
اسرائیلی حراست میں ابراہیم کو جسمانی اور ذہنی اذیتیں برداشت کرنی پڑیں، اور اس دوران اسے اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ امریکی قانون سازوں اور شہری حقوق کی تنظیموں کے دباؤ کے بعد اسرائیل نے اسے رہا کر دیا۔
ابراہیم کے والدین نے کہا کہ یہ ایک طویل اور پریشان کن عمل تھا، اور وہ اپنے بچے کی رہائی پر سکون محسوس کر رہے ہیں۔






