زہران ممدانی،اپنی آرام دہ رہائش چھوڑ کر قدیم سرکاری رہائش گاہ اختیار کرنے کی وجوہات

0
294

زہران ممدانی کا اپنی آرام دہ رہائش چھوڑ کر قدیم سرکاری رہائش گاہ اختیار کرنے کی وجوہات

نیویارک کے پہلے نومسلم میئر زہران ممدانی نے اپنی آرام دہ رہائش چھوڑ کر قدیم سرکاری رہائش گاہ “گریس مینشن” میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ وہی گریس مینشن ہے جو 1799 میں تعمیر ہوئی تھی اور جہاں سے کئی میئر اپنی صبح کی چائے پی کر شہر کی نگرانی کرتے رہے۔

نومنتخب میئر زہران ممدانی کو گریس مینشن میں منتقلی کے لیے اپنے اور اہل خانہ کو منانے میں کچھ وقت لگا۔

زہران ممدانی نے کہا کہ یہ فیصلہ خاندان کی سلامتی اور نیویارکرز کے لیے اپنے ہاؤسنگ ایجنڈے پر توجہ دینے کے لیے کیا ہے۔

انھوں نے کہا، “میرا دل آسٹوریا میں رہے گا جہاں زندگی کے کئی یادگار لمحات گزارے۔ میں شاید آسٹوریا سے نکل جاؤں، لیکن آسٹوریا مجھ میں سے نہیں نکل پائے گا۔” آسٹوریا والوں کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔

خیال رہے کہ زہران ممدانی کوئنز کاؤنٹی کے اسٹوریا علاقے میں جس گھر میں رہتے ہیں اس کا کرایہ 2300 ڈالرز ہے۔

زہران ممدانی کے حریف اینڈریو کومو نے چند روز قبل طنز کیا تھا کہ “اتنی مشہور فیملی کا بچہ اور میئر بن کر بھی کرائے کے گھر میں کیوں رہتے ہو؟”

پانچ بیڈ رومز پر مشتمل گریس مینشن اپنی خوبصورتی، شان و شوکت اور حسن تعمیر کے باعث کافی شہرت رکھتا ہے۔

اس قدیم عمارت سے متعلق بھوتوں کی کہانیاں بھی مشہور ہیں اور سابق خاتونِ اول چرلین میکری نے کہا تھا کہ گریس مینشن کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔

سابق میئر ایرک ایڈمز نے بھی کہا تھا کہ “بھائی، وہاں بھوت ہیں۔ میں تو اس بات کو سچ مانتا ہوں۔”

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا