فیلڈ مارشل کے بیرون ممالک دورے اور اثرات

0
1083
سندر شعیب ایڈووکیٹ

سُندر شعیب ایڈووکیٹ

پاکستان کی خارجہ اور سلامتی پالیسی میں عسکری قیادت کا کردار ہمیشہ مرکزی رہا ہے۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب خطہ شدید جغرافیائی، سیاسی اور معاشی تبدیلیوں سے گزر رہا ہو، عسکری قیادت کے بیرونی ممالک کے دورے نہ صرف دفاعی نوعیت رکھتے ہیں بلکہ ان کے اثرات سفارت کاری، معیشت اور داخلی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے بیرونی ممالک کے دورے بھی اسی تناظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

جن کے دور رس اثرات پاکستان کی عالمی ساکھ، تزویراتی حیثیت اور علاقائی کردار پر مرتب ہو رہے ہیں۔دنیا اس وقت کثیر القطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں امریکہ، چین، روس، یورپی یونین اور علاقائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں۔ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا عالمی سیاست کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے ایک قدرتی تزویراتی ریاست بناتا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیرونی دورے دراصل پاکستان کو اس نئے عالمی منظرنامے میں ایک متوازن، ذمہ دار اور فعال ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہیں۔جنرل عاصم منیر کے دوروں کا سب سے نمایاں پہلو عسکری سفارت کاری کا فروغ ہے۔ ان دوروں کے دوران دفاعی تعاون، مشترکہ مشقوں، انٹیلی جنس شیئرنگ اور انسدادِ دہشت گردی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ بات واضح ہے کہ جدید دنیا میں عسکری تعلقات محض جنگی تیاری تک محدود نہیں رہے۔

بلکہ امن کے قیام، خطے میں استحکام اور مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ان دوروں سے پاکستان کی مسلح افواج کا ایک پیشہ ورانہ، منظم اور امن پسند چہرہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا، جس سے ان الزامات کی نفی ہوتی ہے جو ماضی میں پاکستان پر عائد کیے جاتے رہے۔افغانستان کی صورتحال، بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات، ایران اور خلیجی ممالک کی بدلتی پالیسیاں—یہ تمام عوامل پاکستان کی سلامتی سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیرونی دوروں میں ان علاقائی مسائل پر کھل کر بات کی گئی، جس سے پاکستان کا مؤقف عالمی رہنماؤں اور عسکری قیادت کے سامنے واضح ہوا۔خصوصاً دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو اجاگر کرنا ان دوروں کا ایک اہم مقصد رہا۔ اس کے نتیجے میں کئی ممالک نے پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو تسلیم کیا اور تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی، جو مستقبل میں علاقائی امن کے لیے مثبت پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے۔


پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول ہمیشہ توازن رہا ہے۔ جنرل عاصم منیر کے دوروں میں یہ بات نمایاں نظر آئی کہ پاکستان کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے تمام عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔

چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری، امریکہ کے ساتھ دفاعی اور انسدادِ دہشت گردی تعاون، روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے عسکری روابط اور خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں یکطرفہ انحصار کے بجائے کثیر جہتی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے۔اگرچہ یہ دورے بظاہر عسکری نوعیت کے تھے، تاہم ان کے معاشی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

جدید دور میں سلامتی اور معیشت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری کا انحصار اس کی سیکیورٹی صورتحال پر ہوتا ہے۔جنرل عاصم منیر کے دوروں کے دوران پاکستان میں استحکام، سیکیورٹی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پر زور دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں کئی ممالک اور دفاعی صنعتوں نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی، جو طویل المدتی بنیادوں پر ملکی معیشت کے لیے سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی دفاعی صنعت گزشتہ چند برسوں میں نمایاں ترقی کر چکی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیرونی دوروں میں دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مشترکہ منصوبوں پر گفتگو ہوئی، جس سے پاکستان کی دفاعی خود کفالت کو مزید تقویت ملنے کی امید ہے۔یہ پیش رفت نہ صرف دفاعی صلاحیت بڑھانے میں مددگار ہوگی بلکہ روزگار کے مواقع اور برآمدات میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے، جو ایک کمزور معیشت کے لیے خوش آئند امر ہے۔

ماضی میں پاکستان کو اکثر ایک غیر مستحکم یا محض سیکیورٹی مسائل سے دوچار ملک کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ جنرل عاصم منیر کے دوروں نے اس تاثر کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان دوروں کے ذریعے پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست، امن کا خواہاں ملک اور علاقائی استحکام کا ضامن ظاہر کیا گیا۔بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا مؤقف زیادہ سنجیدگی سے سنا جانے لگا، جو سفارتی کامیابی کی علامت ہے۔

ان بیرونی دوروں کے اثرات داخلی سطح پر بھی محسوس کیے گئے۔ عسکری قیادت کے فعال عالمی کردار سے عوام میں اعتماد پیدا ہوا کہ ملک کی سلامتی مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اس سے نہ صرف قومی یکجہتی کو تقویت ملی بلکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔مزید برآں، سول اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کا تاثر بھی ابھرا، جو کسی بھی ملک کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔اگرچہ جنرل عاصم منیر کے بیرونی دورے مجموعی طور پر مثبت ثابت ہوئے ہیں۔

تاہم چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ علاقائی کشیدگیاں، عالمی طاقتوں کے باہمی تنازعات اور داخلی معاشی مسائل پاکستان کے لیے آزمائش بن سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دوروں سے حاصل ہونے والے سفارتی اور عسکری فوائد کو مستقل پالیسی میں تبدیل کیا جائے، تاکہ یہ محض علامتی سرگرمیاں نہ رہیں بلکہ قومی ترقی اور استحکام کا ذریعہ بنیں۔فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے بیرونی ممالک کے دورے پاکستان کی عسکری سفارت کاری، علاقائی سلامتی، عالمی تشخص اور معاشی امکانات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

ان دوروں نے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مضبوط کیا بلکہ یہ ثابت کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار، متوازن اور امن پسند ریاست ہے۔اگر ان سفارتی اور عسکری کوششوں کو مؤثر پالیسی سازی، معاشی اصلاحات اور داخلی استحکام کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو پاکستان آنے والے برسوں میں خطے میں ایک مضبوط اور باوقار کردار ادا کر سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا