خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ سے اڈیالہ جیل میں ملاقات نہ کرانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے جمعرات کو اڈیالہ جیل جانے کا اعلان کر دیا ہے۔
نوشہرہ کے علاقے تاروجبہ میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ تحریک فسطائیت کے خلاف ایک منظم، پرامن اور آئینی جدوجہد ہے، جس میں تشدد یا انتشار کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قیادت نے ہمیں پرامن سیاسی جدوجہد کی تربیت دی ہے اور اسی وجہ سے پوری تحریک کے دوران ایک گملا تک نہیں توڑا گیا۔ ہم پرامن تھے، ہیں اور رہیں گے کیونکہ آئین پاکستان ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ اسٹریٹ موومنٹ کو 8 فروری تک عروج پر لے جایا جائے گا، جس کا مقصد ناحق قید اپنے قائد کی رہائی کے لیے عوامی آواز کو منظم اور طاقتور بنانا ہے، جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی اسی مرحلے پر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عوام میں جو جوش، جذبہ اور ولولہ دیکھا گیا وہ بے مثال ہے اور وہ تمام شرکا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جو انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے منافی ہے، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، جو غیر سیاسی ہیں، انہیں بھی قید تنہائی میں رکھا جانا انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو فیملی ملاقات تک کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر عوامی غصہ اسی طرح بڑھتا رہا تو اس کے نتائج کی ذمہ داری انہی عناصر پر عائد ہو گی جو ملاقاتوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
بعد ازاں مردان میں پاکستان چوک پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کا نظم و ضبط اور سیاسی شعور اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم اپنے حقوق اور آئین کے تحفظ کے لیے بیدار ہو چکی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جمعرات کو اڈیالہ جیل جائیں گے اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ مذاکرات ہوں یا احتجاج، اس کا اختیار تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پاس ہے، اور اگر جیل سے احتجاج کی کال آئی تو پھر کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔





