سند رشعیب
پاکستان کی سیاست میں نئے صوبوں کا مطالبہ کوئی نیا موضوع نہیں۔ کبھی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی آواز بلند ہوتی ہے، کبھی بہاولپور کی صوبائی حیثیت بحال کرنے کی بات سامنے آتی ہے، کبھی ہزارہ صوبے کا مطالبہ زور پکڑتا ہے اور کبھی کراچی کو سندھ سے الگ انتظامی اکائی بنانے کی بحث شروع ہوجاتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ سوال سیاسی نعروں، انتخابی وعدوں اور پارلیمانی مباحث کا حصہ ہے کہ کیا پاکستان کے بڑے انتظامی مسائل کا حل مزید صوبے بنانے میں ہے؟لیکن شاید اس سوال کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا اسے ایسے بااختیار شہر، اضلاع اور مقامی حکومتیں درکار ہیں جو اپنے فیصلے خود کرسکیں؟اگست 2026 میں ہونے والی ایک قومی بحث میں بھی نئے صوبوں، نئے انتظامی یونٹس، مضبوط مقامی حکومتوں، مالیاتی اختیارات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو ایک ہی بڑے انتظامی مسئلے کے مختلف حل کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔
اس بحث میں ایک اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ کسی بھی انتظامی تبدیلی کا مقصد صرف نقشے پر نئی حد بندی نہیں بلکہ شہریوں کو بہتر خدمات کی فراہمی ہونا چاہیے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ’’نئے صوبے‘‘ اور ’’بااختیار شہر‘‘ کی بحث ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہے۔پاکستان میں آبادی کا بڑا حصہ اب شہروں میں رہتا ہے اور بڑے شہروں پر آبادی، ٹریفک، رہائش، پانی، صفائی، صحت، تعلیم، ماحولیات اور روزگار کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد، ملتان، پشاور اور کوئٹہ جیسے شہری مراکز صرف اپنے متعلقہ اضلاع کے شہر نہیں رہے بلکہ پورے خطے کی معاشی سرگرمیوں کے مراکز بن چکے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ان شہروں کی انتظامیہ کے پاس اکثر اتنے اختیارات، مالی وسائل اور ادارہ جاتی خودمختاری نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بنیادی مسائل خود حل کرسکیں۔نئے صوبے، مگر کیا مسائل حل ہوجائیں گے؟نئے صوبوں کے حامیوں کے پاس مضبوط دلائل موجود ہیں۔ پاکستان کے موجودہ صوبے رقبے، آبادی اور انتظامی ضروریات کے اعتبار سے یکساں نہیں۔ بعض صوبوں میں دارالحکومت اور بڑے شہری مراکز کے گرد اختیارات اور وسائل کا ارتکاز دوسرے علاقوں میں محرومی کا احساس پیدا کرتا ہے۔
جنوبی پنجاب کے عوام کی شکایات اس کی ایک مثال ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ لاہور مرکزیت کے باعث جنوبی اضلاع کو مطلوبہ انتظامی توجہ، ترقیاتی وسائل اور سیاسی نمائندگی نہیں ملتی۔ اسی طرح ہزارہ اور دیگر علاقوں میں بھی انتظامی شناخت اور سیاسی اختیار کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔نئے صوبے بنانے سے ممکنہ طور پر انتظامیہ شہریوں کے قریب آسکتی ہے، سرکاری محکموں کی نگرانی بہتر ہوسکتی ہے اور ترقیاتی منصوبہ بندی علاقائی ضروریات کے مطابق کی جاسکتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نیا صوبہ بننے کے بعد وہی مسائل دوبارہ پیدا نہیں ہوں گے؟اگر نئے صوبے کا دارالحکومت ایک طاقتور شہر بن جائے، تمام بڑے ادارے وہیں قائم ہوں، بجٹ کا بڑا حصہ وہیں خرچ ہو اور دور دراز اضلاع پھر نظر انداز ہونے لگیں تو مسئلہ صرف ’’لاہور بمقابلہ جنوبی پنجاب‘‘ سے بدل کر ’’نیا دارالحکومت بمقابلہ باقی صوبہ‘‘ ہوجائے گا۔اس لیے صرف صوبوں کی تعداد بڑھانا انتظامی اصلاحات کا مکمل حل نہیں ہوسکتا۔اصل مسئلہ پاکستان میں ایک بنیادی مسئلہ اختیارات کا ارتکاز ہے۔
وفاق کے پاس بہت سے اختیارات، صوبوں کے پاس اس سے کم اور مقامی حکومتوں کے پاس عموماً محدود سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار رہ جاتا ہے۔آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو مقامی حکومت کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری و اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند بناتا ہے۔ لیکن عملی سیاست میں مقامی حکومتیں اکثر صوبائی حکومتوں کی محتاج رہتی ہیں۔یہی بنیادی تضاد ہے۔ہم وفاق سے صوبوں کو اختیار منتقل کرنے کو جمہوری پیش رفت سمجھتے ہیں، لیکن صوبوں سے شہروں اور اضلاع کو اختیار منتقل کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ ایک عام شہری کو سڑک، سیوریج، پانی، کچرے، پارک، ٹریفک یا مقامی ترقی کے مسئلے کے لیے کئی مختلف محکموں کے درمیان بھٹکنا پڑتا ہے۔کراچی صرف ایک شہر نہیں، ایک معاشی انجن ہے پاکستان میں ’’بااختیار شہر‘‘ کی سب سے واضح مثال کراچی ہوسکتا ہے۔کراچی ملکی معیشت میں غیر معمولی کردار ادا کرتا ہے، لیکن شہر کے انتظامی ڈھانچے میں مختلف اداروں اور حکومتوں کی ذمہ داریاں بٹی ہوئی ہیں۔ نتیجتاً ایک ہی سڑک، نالے، پانی، ٹرانسپورٹ یا زمین کے معاملے میں متعدد ادارے شریک ہوجاتے ہیں۔
اگر کراچی کو ایک مؤثر، منتخب اور مالی طور پر بااختیار میٹروپولیٹن حکومت دی جائے، جس کے پاس ٹرانسپورٹ، ماسٹر پلان، پانی، صفائی، بلدیاتی انفراسٹرکچر، پارکس، شہری منصوبہ بندی اور مقامی ٹیکسوں کے بارے میں واضح اختیارات ہوں تو کیا اسے لازماً نیا صوبہ بنانا ضروری ہوگا؟یہی سوال لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، پشاور، ملتان اور دوسرے بڑے شہروں کے بارے میں بھی پوچھا جاسکتا ہے۔مئی 2026 میں ایک تجویز میں کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں کے لیے آئینی طور پر مخصوص ’’میگاسٹی گورنمنٹ‘‘ کا تصور بھی سامنے آیا تھا، تاکہ بڑے شہری مراکز کو عام بلدیاتی ڈھانچے سے مختلف اور زیادہ مؤثر انتظامی حیثیت دی جاسکے۔بااختیار شہر کا مطلب کیا ہے؟بااختیار شہر کا مطلب صرف یہ نہیں کہ میئر کو ایک عہدہ دے دیا جائے اور اسے چند نمائشی اختیارات بھی فراہم کردیے جائیں۔حقیقی بااختیار شہر کے لیے کم از کم پانچ چیزیں ضروری ہیں۔اول، منتخب قیادت۔ شہری اپنے میئر یا میٹروپولیٹن حکومت کو براہ راست منتخب کریں تاکہ اس کا سیاسی مینڈیٹ واضح ہو۔دوم، مالی خودمختاری۔ شہر کو مقامی ٹیکس، فیس اور دیگر آمدنی کے ذرائع پر مؤثر اختیار حاصل ہو اور صوبائی و وفاقی وسائل میں اس کا حصہ قانون کے ذریعے متعین ہو۔
سوم، انتظامی اختیار۔ پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ، شہری منصوبہ بندی، سڑکوں اور بنیادی شہری سہولیات کے لیے ذمہ دار ادارے ایک مربوط شہری حکومت کے ماتحت ہوں۔چہارم، طویل مدتی منصوبہ بندی۔ حکومتیں بدلنے کے ساتھ شہر کا ماسٹر پلان تبدیل نہ ہو۔ کم از کم 20 یا 30 سالہ شہری منصوبہ بندی سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو۔پنجم، شفاف احتساب۔ اختیارات کے ساتھ آڈٹ، شہری نگرانی، اوپن ڈیٹا اور مؤثر احتساب بھی ضروری ہو۔ بااختیار حکومت اگر بے لگام ہوجائے تو وہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نیا مسئلہ بن سکتی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ پاکستان کو صرف ایک ہی راستہ اختیار کرنا پڑے۔ممکن ہے مستقبل کا بہتر ماڈل یہ ہو کہ جہاں حقیقی عوامی، تاریخی اور انتظامی ضرورت موجود ہو وہاں نئے صوبوں پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، لیکن ہر صوبے کے اندر بڑے شہروں اور اضلاع کو بھی مضبوط خودمختار حکومتیں دی جائیں۔یعنی بحث ’’صوبہ یا شہر‘‘ کے بجائے ’’صوبہ اور شہر‘‘ کی ہونی چاہیے۔نئے صوبے بن بھی جائیں تو اگر مقامی حکومتیں کمزور رہیں تو عوام تک اختیار نہیں پہنچے گا۔ اسی طرح صرف بلدیاتی حکومتیں بنا دینے سے ان علاقوں کی سیاسی یا انتظامی محرومیاں ختم نہیں ہوں گی جہاں ایک نئے صوبے کی واقعی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔اس لیے ہر علاقے کے لیے ایک ہی نسخہ درست نہیں ہوسکتا۔پاکستان کو نقشوں سے زیادہ نظام کی ضرورت ہے پاکستان میں انتظامی اصلاحات کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ہم اکثر نقشہ تبدیل کرکے سمجھتے ہیں کہ نظام تبدیل ہوگیا۔نیا ضلع بنادیا، نیا ڈویژن بنا دیا، نیا صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کردی، لیکن اگر افسر شاہی کا ڈھانچہ، مالیاتی نظام، اختیارات کی تقسیم اور فیصلہ سازی کا طریقہ وہی رہے تو عام شہری کی زندگی میں بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔
دنیا کے کامیاب شہری مراکز کا تجربہ بتاتا ہے کہ شہر کو مؤثر بنانے کے لیے اسے فیصلہ سازی، وسائل اور منصوبہ بندی کے اختیارات دینا ضروری ہیں۔ پاکستان میں بھی بحث اب محض صوبوں کی تعداد سے آگے بڑھ کر مقامی حکومتوں کی طاقت، مالیاتی تقسیم اور ادارہ جاتی اصلاحات تک پہنچ چکی ہے۔نئے صوبوں کی بحث میں سیاست کا عنصر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بعض اوقات صوبائی مطالبات حقیقی انتظامی محرومیوں کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن کبھی یہی مطالبات سیاسی جماعتوں کے لیے انتخابی نعرے بھی بن جاتے ہیں۔اسی طرح بااختیار میئر اور مضبوط بلدیاتی حکومت بھی صوبائی سیاسی اختیار کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔ اگر شہر کے پاس اپنا مضبوط سیاسی مینڈیٹ، بجٹ اور انتظامی مشینری ہو تو صوبائی حکومت کے پاس شہری سطح پر اختیارات کم ہوجائیں گے۔لیکن جمہوریت کا اصل مقصد یہ نہیں کہ اختیار زیادہ سے زیادہ اوپر رکھا جائے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ اختیار اس سطح پر ہو جہاں فیصلے سے متاثر ہونے والے لوگ اسے دیکھ بھی سکیں اور اس کا احتساب بھی کرسکیں۔
اگر ایک شہری حکومت اپنے علاقے کی صفائی نہیں کرسکتی، سڑک نہیں بناسکتی، ٹریفک کا نظام درست نہیں کرسکتی اور پانی کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی تو پھر اس سے صرف یہ توقع کرنا کہ وہ شہریوں کے مسائل حل کرے گی، غیر حقیقت پسندانہ ہے۔فیصلہ اب ہونا چاہیے ملک کو اب اس بحث کو نعروں سے نکال کر ایک قومی پالیسی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ایک آزاد قومی کمیشن قائم کیا جاسکتا ہے جو آبادی، رقبے، انتظامی صلاحیت، آمدنی، محرومی، شہری دباؤ اور عوامی مطالبات کی بنیاد پر ملک کے انتظامی ڈھانچے کا جائزہ لے۔جہاں نیا صوبہ انتظامی اور عوامی ضرورت ثابت ہو، وہاں آئینی طریقہ کار کے تحت اس پر غور کیا جائے۔ جہاں مسئلہ صرف اختیارات کی عدم دستیابی ہو وہاں مضبوط مقامی حکومت اور میٹروپولیٹن نظام نافذ کیا جائے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اس معاملے کو انتخابی نعرے کے بجائے قومی اصلاحاتی ایجنڈا بنائیں۔پاکستان کو صرف زیادہ صوبے نہیں چاہییں۔ پاکستان کو زیادہ مؤثر حکومتیں چاہییں۔
ایسی حکومتیں جو شہری کے قریب ہوں، جن کا بجٹ واضح ہو، جن کا احتساب ممکن ہو اور جنہیں اپنے فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنا پڑے۔اگر نئے صوبے عوامی محرومی کم کرتے ہیں تو ان پر غور ہونا چاہیے۔ اگر بااختیار شہر شہری مسائل حل کرتے ہیں تو انہیں اختیار ملنا چاہیے۔ لیکن سب سے خطرناک راستہ یہ ہوگا کہ ہم صوبوں کی تعداد بڑھاتے رہیں اور شہروں کو پھر بھی بے اختیار چھوڑ دیں۔پاکستان کا مستقبل شاید ’’کتنے صوبے‘‘ کے سوال میں نہیں، بلکہ اس سوال میں چھپا ہے کہ اختیار کہاں ہونا چاہیے؟اگر جواب یہ ہے کہ اختیار عوام کے قریب ہونا چاہیے، تو پھر پاکستان کو نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ بااختیار شہر، مضبوط اضلاع اور حقیقی مقامی حکومتیں بھی دینا ہوں گی۔آخرکار ایک عام پاکستانی کو اس بات سے کم دلچسپی ہوتی ہے کہ اس کے علاقے کا نام صوبہ ہے یا ڈویژن؛ اسے اس بات سے زیادہ سروکار ہے کہ اس کے گھر تک پانی آتا ہے یا نہیں، سڑک قابلِ استعمال ہے یا نہیں، کچرا اٹھتا ہے یا نہیں، ہسپتال میں علاج ملتا ہے یا نہیں اور اس کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر ہے یا نہیں۔یہی وہ معیار ہے جس پر پاکستان کے مستقبل کے انتظامی نقشے کو پرکھا جانا چاہیے۔





