عمران رشید
ایران نے سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب میں حملوں اور جوابی کارروائیوں نے جنگ کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ مسائل کا فوجی حل نہیں، جبکہ ریاض نے واضح کیا ہے کہ اس نے ایران سے ثالثی کی درخواست نہیں کی۔ حوثیوں کے ایک سینئر رہنما نے اصولی طور پر ایسی کسی بھی ثالثی کا خیرمقدم کیا ہے جو جنگ اور ناکہ بندی ختم کرائے۔ تاہم، یہ بیانات کسی باقاعدہ مذاکراتی عمل یا فریقین کی مکمل رضامندی کا ثبوت نہیں ہیں۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اکتوبر میں سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد کہا کہ ایران سعودی عرب اور یمن کے درمیان بات چیت شروع کرانے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔ تہران نے یہ مؤقف بھی دہرایا کہ خطے کے بحرانوں کو صرف طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش حالات کو مزید پیچیدہ کرے گی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران دو مسلم ممالک کے درمیان جنگ جاری نہیں دیکھنا چاہتا۔ یوں ایران نے خود کو ممکنہ سہولت کار کے طور پر پیش کیا ہے۔
لیکن سعودی عرب کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پیشکش کو قبول کرنے کا اعلان نہیں ہوا۔ سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ریاض نے ایران سے ثالثی نہیں مانگی۔ سعودی مؤقف کے مطابق ایران حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور مدد فراہم کرتا ہے؛ تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ ایسے میں سعودی حکومت کے لیے ایران کو غیر جانب دار ثالث تسلیم کرنا آسان نہیں، کیونکہ ایک ہی وقت میں ایران حوثیوں کا حامی بھی ہے اور ثالثی کی پیشکش کرنے والا بھی۔ ریاض نے یہ بھی کہا کہ اس نے حالیہ کشیدگی کے آغاز پر حوثیوں کو عمان میں ملاقات کی دعوت دی تھی، لیکن وہ اس پر آمادہ نہیں ہوئے۔ حوثیوں کا ردِعمل اس سے مختلف، مگر مکمل طور پر واضح نہیں۔ گروہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے کہا کہ وہ ایسی کسی ثالثی کا خیرمقدم کریں گے جو جنگ اور صنعاء پر عائد ناکہ بندی ختم کرانے میں مدد دے۔ ان کا بیان مذاکرات کے لیے اصولی آمادگی ظاہر کرتا ہے، لیکن اسے ایران کی مخصوص پیشکش کی باضابطہ قبولیت کہنا درست نہیں ہوگا۔ حوثی قیادت نے سعودی عرب سے اپنے مطالبات، جنگ بندی کی شرائط یا کسی نئے مذاکراتی دور کے لیے وفد کی تفصیل عوامی طور پر پیش نہیں کی۔
اسی لیے یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ایران کی پیشکش کو دونوں فریقوں نے قبول کر لیا ہے۔یہ معاملہ صرف ایران، سعودی عرب اور حوثیوں تک محدود بھی نہیں۔ یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور دیگر سیاسی و مسلح گروہ بھی موجود ہیں۔ کسی ایسے معاہدے کو جو صرف ریاض اور حوثیوں کے درمیان طے ہو، یمن کے تمام فریقوں کی نمائندگی نہیں سمجھا جا سکتا۔ سعودی عرب طویل عرصے سے یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا آیا ہے، جبکہ حوثی دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے کئی علاقوں پر قابض ہیں۔ اس لیے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم ہونا ضروری تو ہے، لیکن اس سے یمن کے سیاسی مستقبل، اقتدار کی تقسیم اور ریاستی اداروں کا سوال خودبخود حل نہیں ہوگا۔ایران کی پیشکش کو خطے کی تازہ کشیدگی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
اکتوبر میں سعودی سرزمین پر حوثی حملوں کے بعد شہری اور معاشی تنصیبات کی سلامتی ایک بار پھر مرکزی مسئلہ بن گئی۔ ریاض کے ہوائی اڈے اور دیگر اہداف پر حملوں کی اطلاعات نے سعودی عرب میں دفاعی اور سیاسی ردِعمل کے مطالبات بڑھائے۔ ان حالات میں ایران کی طرف سے مذاکرات کی بات ایک سفارتی راستہ کھول سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ تہران کے اپنے مفادات بھی ہیں۔ ثالثی کے ذریعے ایران علاقائی سفارت کاری میں اپنا کردار نمایاں کر سکتا ہے اور یہ دکھا سکتا ہے کہ اس کا حوثیوں پر اثر و رسوخ کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ یہ ممکنہ سیاسی فائدہ ہے، لیکن اس سے پیشکش کی نیت کے بارے میں قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔اصل امتحان یہ ہوگا کہ ایران اپنی بات کو عملی قدم میں بدل سکتا ہے یا نہیں۔ اگر تہران واقعی اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اسے حوثیوں کے حملے روکنے، قیدیوں اور سرحدی سلامتی جیسے معاملات پر پیش رفت، اور ایسے ماحول کی تشکیل میں مدد دینی ہوگی جس میں سعودی عرب کو محض بیان بازی نہیں بلکہ قابلِ تصدیق یقین دہانیاں ملیں۔ دوسری جانب، سعودی عرب کو بھی حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے اور عمان جیسے قابلِ قبول ذریعے سے بات چیت کے امکانات کھلے رکھنے ہوں گے۔
ایک طرف پیشکش، اور دوسری طرف اسے قبول کرنے کی شرطیں رکھنا، مذاکرات کا آغاز تو ہو سکتا ہے، ان کا متبادل نہیں۔عمان کا کردار یہاں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ عمان پہلے بھی یمن کے تنازعے میں رابطوں اور مذاکراتی کوششوں کے لیے جگہ فراہم کرتا رہا ہے۔ اگر سعودی عرب ایران کو غیر جانب دار ثالث نہیں سمجھتا، تو عمان یا اقوامِ متحدہ کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات ایک قابلِ عمل راستہ بن سکتے ہیں۔ ایران پھر بھی پسِ پردہ اثر ڈال سکتا ہے، مگر رسمی عمل میں ایسا فریق شامل ہو جس پر دونوں جانب اعتماد نسبتاً زیادہ ہو۔ چین، روس یا دیگر علاقائی ممالک رابطوں کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں، لیکن کامیابی کا انحصار بنیادی طور پر سعودی عرب اور حوثی قیادت کی سیاسی آمادگی پر ہوگا۔مذاکرات کے کسی بھی عمل کو چند بنیادی سوالوں کے جواب دینا ہوں گے: کیا فریقین حملے روکنے پر متفق ہوں گے؟ سرحد پار حملوں اور فضائی کارروائیوں کی نگرانی کیسے ہوگی؟ یمن میں امداد اور سامان کی رسائی پر عائد پابندیوں میں کیا تبدیلی آئے گی؟ قیدیوں کی رہائی، سرحدی تحفظ اور سیاسی عمل کے لیے کیا قابلِ تصدیق اقدامات طے ہوں گے؟ اگر ان امور پر واضح طریقۂ کار نہ ہو تو جنگ بندی محض عارضی وقفہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ وقتی خاموشی اس وقت تک پائیدار امن نہیں بنتی جب تک تنازعے کے سیاسی اور انسانی پہلوؤں پر بھی پیش رفت نہ ہو۔اس بحران کی انسانی قیمت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔
برسوں کی جنگ نے یمن میں شہریوں کو بے گھر کیا، معیشت اور بنیادی سہولتوں کو نقصان پہنچایا اور خوراک و صحت کے مسائل بڑھائے۔ سعودی عرب پر حملوں سے شہریوں کی جانیں اور علاقائی سلامتی بھی خطرے میں پڑتی ہیں۔ دونوں طرف کے عوام کو ایسے حل کی ضرورت ہے جو میزائل حملوں اور فضائی کارروائیوں سے آگے بڑھے۔ اسی لیے ثالثی کی پیشکش کو صرف سفارتی مقابلے یا علاقائی اثر و رسوخ کی کشمکش کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے؛ اس کی قدر اس بات سے طے ہوگی کہ آیا اس سے تشدد میں کمی اور لوگوں کے تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔فی الحال سوال کا جواب یہ ہے: ایران نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، حوثی رہنما نے ایسی ثالثی کا اصولی خیرمقدم کیا ہے، لیکن سعودی عرب نے اسے قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا اور کہا ہے کہ اس نے ایرانی ثالثی کی درخواست بھی نہیں کی۔ حوثیوں کا عمان میں ملاقات کی دعوت رد کرنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ اصولی آمادگی اور عملی مذاکرات کے درمیان فاصلہ موجود ہے۔ لہٰذا عنوان میں سوالیہ نشان بجا ہے۔ پیشکش کو کامیاب سفارت کاری کہنا ابھی جلد بازی ہوگی؛ تاہم اگر اسے غیر جانب دار رابطوں، قابلِ تصدیق جنگ بندی اور وسیع تر یمنی سیاسی عمل سے جوڑا جائے تو یہی پیشکش کشیدگی کم کرنے کا ایک ممکنہ دروازہ بن سکتی ہے۔





