بغداد: ایران سے منسلک عراقی ملیشیا گروپ کے چار ارکان بشمول ایک اعلیٰ عراقی ملیشیا کمانڈر جمعرات کو بغداد میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے ہیں میڈیا رپورٹوں کے مطابق انہیں امریکی افواج پر حملوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ ۔ امریکی اہلکار نے بتایا کہ حملے میں عراقی شیعہ فوجی گروپ حرکت حزب اللہ النجابہ کے ایک رہنما کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ عراق اور شام میں اپنی افواج کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ حرکت حزب اللہ النجابہ کے عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز (PMF) سے روابط ہیں مشتاق طالب السعدی، یا ‘ابو تقوی’، اس حملے میں مارے گئے تھے، جو کہ ‘وحشیانہ امریکی جارحیت کے نتیجے میں’ تھا، عراقی فوج کے ترجمان یحییٰ رسول نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراقی فوج ‘انٹرنیشنل کولیشن فورسز کو ایک عراقی سکیورٹی ادارے پر اس بلا اشتعال حملے کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے جو اسے مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کی طرف سے دیے گئے اختیارات کے مطابق کام کر رہی ہے۔





