مخصوص نشستوں پر قومی اورپنجاب اسمبلی میں حلف ،پشاور ہائیکورٹ کی حکم عدولی،پی ٹی آئی کا احتجاج

0
258

اسلام آباد : قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے مخصوص نشستوں پر متعدد نئی نامزد اراکین اسمبلی سے پی ٹی آئی کی ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کے درمیان حلف لیا۔ قبل ازیں اٹارنی جنرل نے اسمبلی کو بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کا اطلاق صرف کے پی کے نمائندوں پر ہوتا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر علی خان نے اسپیکر کو بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں کے قانون سازوں کی حلف برداری پر روک لگا دی ہے۔لہذا فیصلہ آنے تک ان سے حلف نہیں لیا جا سکتا۔

پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اور سنی اتحاد کونسل کے قانون ساز عمر ایوب خان نے جمعہ کو پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مخصوص نشستوں پر اراکین قومی اسمبلی کی حلف برداری کوغیر آئینی قرار دیا۔ اور کہا کہ آج مخصوص نشستوں پر ایم این اے کی حلف برداری غیر قانونی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ ان کی جماعت کے لیے مخصوص نشستیں کسی اور کو نہیں دی جا سکتیں اس لیئے اس سے پہلے حلف اٹھانا خود حلف اور آئین کی خلاف ورزی ہے
سوال کیا کہ قانون کی حکمرانی کے بغیر ملک کیسے چلے گا؟ نظام اس طرح نہیں چل سکتا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پی ایچ سی کے فیصلے کا اطلاق سندھ اور بلوچستان پر نہیں ہوتا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ قومی اسمبلی کو حلف برداری کے حوالے سے الیکشن کمیشن یا پشاور ہائیکورٹ سے کوئی حکم یا نوٹس نہیں ملا۔ میں اس معاملے پر بالکل واضح ہوں کہ پہلے تو ہمیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا اور دوسرا اگر ہم ہوتے تو بھی ہم کتاب کے مطابق چلتے۔ .

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا