اسلام آباد : اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس نے پارلیمنٹ حملہ کیس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو عدالت میں پیش کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 20 اپریل کو پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پارلیمنٹ حملہ کیس کی کارروائی کے دوران خان اور قریشی کی عدالت میں موجودگی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پروڈکشن آرڈر جاری کیا۔
عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا نے جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس کے روبرو اپنے دلائل پیش کیے۔انہوں
نے عدالت کو بتایا کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کسی عدالت کا حکم نہیں مانتے کو تیار نہیں۔ لہذا عدالت سے درخواست ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ جیل حکام احکامات پر عمل کریں اورعمران خان کو اس عدالت کے سامنے پیش کریں۔ جیل حکام نے بہانے بنائے اور بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کے لیے بھی پیش نہیں کیا گیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے پنجوتھا کے دلائل کے بعد کہا کہ خان اڈیالہ جیل میں ہیں اور صورتحال مختلف ہے اور ویڈیو لنک کا آپشن موجود ہے لیکن حاضری ای کورٹ میں ہوتی ہے۔سابق وزیراعظم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل میں انٹرنیٹ کام کرتا ہے لیکن صرف پی ٹی آئی کے بانی کے معاملے میں یہ کام کرنا بند کر دیتا ہے۔
وکیل نے کہا کہ اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ پی ٹی آئی کے بانی کو ویڈیو لنک پر لانے سے ڈرتے ہیں۔اس ہفتے کے اوائل میں پنجوتھا نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ سے متعلق دو مقدمات میں بری کیے جانے سے متعلق سماعت کے لیے پی ٹی کے بانی چیئرمین کو پیش کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
تاہم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے ریمارکس دیئے کہ بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے راستے میں کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟وکیل نے دلیل دی کہ خان پہلے بھی خود عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فراہم کرنا حکومت کا کام ہے، پی ٹی آئی کے بانی کی قانونی ٹیم ان کی موجودگی میں اپنے دلائل دینا چاہتی تھی۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت پر حاضری ضروری ہوتی ہے۔





