لاہور، کوئیٹہ : صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق پنجاب اور بلوچستان میں آسمانی بجلی گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوگئے۔ پنجاب میں 13 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ بلوچستان میں مزید 2 ہلاکتوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش کے باعث آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص اور دو بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سے رابطہ کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہدایات جاری کیں جبکہ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
ڈی جی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات کا مقابلہ مشترکہ اور باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے، تمام ادارے اور محکمے الرٹ ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واضح ہدایات دی ہیں کہ غفلت یا غیر ذمہ داری برداشت نہیں کی جائے گی۔ دریں اثنا بلوچستان کے صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے انچارج یونس مینگل نے بتایا کہ ڈیرہ بگٹی میں آسمانی بجلی گرنے سے مزید 2 افراد جاں بحق جبکہ ضلع قلات کے علاقے سوراب میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پشین کے علاقے حمید آباد میں موسلا دھار ریلوں سے آنے والے سیلاب سے 10 سے 15 گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے، متاثرہ افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔
پشین میں سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے دو امدادی ٹیمیں مشینری کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ لورالائی میں بھی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا ہے جبکہ صوبے میں اب تک مجموعی طور پر 6 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پی ڈی ایم اے کنٹرول روم کا دورہ کیا اور کہا کہ وہ خود بارشوں کے دوران امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔کے پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق لوئر چترال میں موسلا دھار بارش کے باعث مکانات گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے جبکہ ایک گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ چار کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ متعدد مقامات پر سڑکیں بند کردی گئی ہیں اور بحالی کا کام جاری ہے۔






