ماہر ین قانون مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئین و قانون کے مطابق قرار دیاہے ۔ ماہر قانون محمود سدوزئی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بہت اچھا قرار دیا اور قوم کو مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مولوی تمیز الدین کیس میں جو گند گھولی تھی، اس فیصلے سے اصلاح کردی، میں سمجھتا تھا کہ خدا نخواستہ اس کے برعکس فیصلہ آتا تو اس کا مطلب ساری امیدوں پر پانی پھرنا تھا۔
انہوںنے کہا کہ اس فیصلے میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس میں ججز نے پی ٹی آئی کے وجود کو تسلیم کیا اور ان کو ان کی سیٹیں دے دیں۔محمود سدوزئی نے کہا کہ جہاں تک اختلافی نوٹ کا تعلق ہے تو جب ججز کسی کیس کو سنتے ہیں تو ان کے مائنڈ اوپن ہوتے ہیں، اس سے ان کا رجحان پتہ چلتا ہے کہ وہ قانون کی تشریح کس طرح کرتا ہے، اختلافی نوٹ جج کا اپنا نکتہ نظر ہوتا ہے۔
ان کے علاوہ بیرسٹر اسد رحیم نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بالکل آئین و قانون کے مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ بلے کے نشان سے متعلق چیف جسٹس آف پاکستان کے فیصلے کے تباہ کن منفی اثرات کو کافی حد تک کم کرنے کی کوشش کی گئی ۔انہوںنے کہا کہ بنیادی بات وہی ہے کہ جو عوام کی منشا، جو عوام کی اکثریت ہے، عوام جب کسی جماعت کا انتخاب کرتے ہیں تو اس کا پوری طاقت سے ایوان میں آنا ضروری ہے، یہ نکتہ ہمارے پارلیمانی نظام کا مرکز ہے، اس وجہ سے عدالت نے سنی اتحاد کونسل کو نہیں، پی ٹی آئی کو یہ نشستیں فراہم کی ہیں، یہ بھی آئینی، قانونی تقاضوں کے مطابق ہے






